نئی دہلی۔ ایم این این۔آپریشن سندور کے آغاز کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد اب 2025 کی بھارت پاکستان فضائی جھڑپ سے متعلق ابتدائی بیانیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تازہ تجزیاتی مطالعات اور عسکری جائزوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی دنوں میں پاکستان کی “فضائی برتری” اور بھارتی فضائیہ کے بھاری نقصانات سے متعلق جو تاثر عالمی میڈیا میں ابھرا تھا، وہ بعد کے شواہد اور عسکری تجزیوں کے سامنے مکمل طور پر برقرار نہیں رہ سکا۔ جان اسپینسر، جو اربن وارفیئر اور عسکری مطالعات کے معروف امریکی تجزیہ کار ہیں، نے اپنے تفصیلی تجزیے میں لکھا کہ بھارت پاکستان کشیدگی کے دوران پاکستان نے ابتدائی طور پر اطلاعاتی محاذ پر تیزی سے بیانیہ قائم کیا، جبکہ بھارت نے نسبتاً محدود عوامی ردعمل اختیار کیا۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے عالمی میڈیا میں ابتدائی توجہ بھارتی طیاروں کے نقصانات پر مرکوز رہی۔ رپورٹ میں سوئٹزرلینڈ کے عسکری تحقیقی ادارے Centre d’Histoire et de Prospective Militaires کی جنوری 2026 کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ ابتدائی جھڑپوں میں بھارتی فضائیہ کو نقصان پہنچا، تاہم بعد کے مراحل میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار نیٹ ورک، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ تجزیے کے مطابق 7 مئی 2025 کو بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مبینہ دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی مرحلے میں کم از کم ایک رافیل، ایک میراج 2000، اور ایک مگ 29 یا ایس یو 30 ایم کے آئی طیارے کے نقصان کی تصدیق کی گئی، جس نے عالمی میڈیا میں پاکستان کے حق میں ابتدائی تاثر پیدا کیا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اگلے دو دنوں میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے متعدد فضائی دفاعی مراکز، ریڈار تنصیبات، اور میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنایا، جن میں چونیاں، پسرور، اور دیگر مقامات شامل تھے۔ ان حملوں میں اسرائیلی ساختہ Harop اور Harpy جیسے لوئٹرنگ میونیشنز استعمال کیے گئے۔ جان اسپینسر کے مطابق 10 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان کے اندر گہرائی تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملے کیے، جن میں براہموس، SCALP-EG، اور Rampage میزائل شامل تھے۔ ان حملوں میں نور خان، مرید، سکھر، سرگودھا، جیکب آباد، اور بھولاری ایئر بیسز سمیت کئی فضائی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کو اتنا متاثر کیا کہ پاکستان فضائی کارروائیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو گیا، جبکہ بھارتی فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کے اہم حصوں پر عملی فضائی برتری حاصل کر لی۔ جان اسپینسر نے لکھا کہ جدید فضائی جنگ اب صرف لڑاکا طیاروں کے درمیان مقابلہ نہیں رہی بلکہ یہ مربوط نیٹ ورکس، سینسرز، ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر، فضائی دفاع، اور کمانڈ سسٹمز کے درمیان مقابلہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا مربوط فضائی دفاعی نظام پاکستان کے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی دعوؤں کے برعکس بھارتی فضائی اڈوں کو بڑے نقصان کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے، جبکہ پاکستان کے متعدد ایئر بیسز پر حملوں کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی تجزیوں سے ہوئی۔ تجزیہ کار کے مطابق ابتدائی چند گھنٹوں کی فضائی جھڑپوں نے عالمی بیانیہ ضرور متاثر کیا، لیکن جنگی مہم کا حتمی نتیجہ بعد کے آپریشنل مراحل سے طے ہوا، جہاں بھارت نے مسلسل دباؤ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کے فضائی دفاع اور آپریشنل صلاحیت کو کمزور کیا۔ جان اسپینسر نے نتیجہ اخذ کیا کہ “ابتدائی بیانیے اکثر جنگ کی مکمل حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتے” اور آپریشن سندور اس کی ایک اہم مثال بن گیا، جہاں ابتدائی تاثر اور بعد کے عسکری شواہد میں واضح فرق سامنے آیا۔












