نئی دہلی ، ایجنسیاں:مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان، دو علاقائی حکام نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ امریکہ اور ایران نے اسلام آباد میں جنگ بندی کے مذاکرات کے نئے دور کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، نہ تو امریکہ اور نہ ہی ایران نے عوامی طور پر مذاکرات کے وقت کی تصدیق کی ہے۔ یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا کوئی اہلکار اس وقت پاکستانی دارالحکومت میں ہے۔ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی قیادت کرنے والے ثالثوں نے تصدیق کر دی ہے۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اہم مذاکرات کار بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کو ہے۔ اس سفارتی ہنگامہ آرائی کے درمیان واشنگٹن کی طرف سے سخت بیانات آرہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے "آپریشن مڈ نائٹ ہیمر” کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک ایسی کارروائی قرار دیا جس کا مقصد جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔ دریں اثناء ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد غالباف نے ان دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غالب نے واضح کیا کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ایران نے میدان جنگ میں نئے کارڈز کو ظاہر کرنے کے لیے پوری طرح سے تیاری کر لی ہے۔دریں اثنا عارضی جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران نے دشمن (امریکہ اور اسرائیل) کیلیے نئے سرپرائز تیار کر لیے۔ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ایسے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ جارحانہ جنگ کے دوبارہ آغاز کی صورت میں نئے اور حیران کن اقدامات تیار کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، امریکہ کے غیر ضروری مطالبات اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے اعلان نے مذاکرات کی راہ روک دی ہے، ایسے میں ایران جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کیلیے مکمل طور پر تیار ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان دیکھا رہا ہے اور اسی بنیاد پر اس نے مخصوص عسکری نقل و حرکت کی ہے جبکہ اس مقصد کیلیے اہداف کی ایک نئی فہرست بھی تیار کر لی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ جنگ کے پہلے ہی لمحات سے امریکیوں اور اسرائیلیوں کیلیے دوسری جہنم بنانے کیلیے تیار ہے۔دوسری اور ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے منگل کو اعلان کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کواگلے اطلاع تک مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ "امریکی-اسرائیلی دشمن” کے حالیہ حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تجارتی جہازوں کی کنٹرولڈ نقل و حرکت کے لیے متبادل راستے بنائے گئے تھے۔ لیکن اب وہ بھی بند ہو گئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک ایران کے خلاف عائد کردہ بحری ناکہ بندی کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ رپورٹ میں حالیہ حملےکی کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب جب حال ہی میں امریکی افواج نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو پکڑا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، منگل کو بھی، امریکی افواج نے ایران سے منسلک ایک اور جہاز کو روکا اور اس میں سوار ہو گئے۔ پینٹاگون نے اطلاع دی کہ خام تیل کے ٹینکر، ایم/ٹی ٹیفانی کو روکا گیا اور آپریشن بغیر کسی واقعے کے” مکمل کیا گیا۔












