واشنگٹن(ہ س)۔اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ان تمام رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا کی حالیہ بم باری سے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا، تاہم ایک با خبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم نہیں کیا گیا۔اس ذریعے نے، جس نے خفیہ معاملات پر گفتگو کے لیے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، بتایا کہ ان حملوں سے ایرانی جوہری پروگرام کو شاید صرف ایک یا دو ماہ کی تاخیر کا سامنا ہوا ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتائی۔اسی طرح تین با خبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کا ابتدائی تخمینہ یہ ہے کہ ان فضائی حملوں سے تہران کے جوہری پروگرام میں محض چند ماہ کی تاخیر آئی ہے۔ ان میں سے دو ذرائع نے بتایا کہ یہ رپورٹ امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کی مرکزی انٹیلی جنس شاخ، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی، نے تیار کی، جو 18 امریکی انٹیلی جنس اداروں میں سے ایک ہے۔ان ذرائع میں سے ایک نے بتایا کہ یہ تخمینہ مجموعی طور پر قابلِ قبول نہیں سمجھا گیا اور اس نے امریکی فیصلہ سازوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا کر دیا۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ خفیہ تجزیہ صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ حکام، جیسے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، کے بیانات سے متصادم ہے۔ ان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ہفتے کے آغاز میں کیے گئے حملوں، جن میں خندق شکن بم اور روایتی اسلحہ استعمال کیا گیا، نے ایرانی جوہری پروگرام کی بنیادوں کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیا‘۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جا سکے، اور کہا کہ جوہری تنصیبات ’مکمل طور پر اور قطعی طور پر ختم کر دی گئی ہیں‘۔ وزیر دفاع ہیگسیتھ نے اتوار کو کہا کہ ان حملوں نے ’ایران کی جوہری امنگوں کو مٹا دیا ہے‘۔؎مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس خفیہ تجزیے کے افشا ہونے کو "غداری” قرار دیا اور افشا کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے ان رپورٹوں کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جن میں حملوں کے اثر کو معمولی قرار دیا گیا تھا، اور کہا کہ یہ باتیں’مضحکہ خیز‘ ہیں۔دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانا ایک مشکل عمل ہو گا، اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اس کام کی واحد ذمے دار نہیں۔ یہ بات روئٹرز خبر رساں ایجنسی نے بھی واضح کی۔اسی تناظر میں، ایک امریکی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکا کو تا حال ان نقصانات کی مکمل حد کا علم نہیں۔ادھر ایرانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام رکا نہیں۔ ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد سلامی نے منگل کے روز سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے جوہری شعبے کو بحال اور مرمت کرنے کے لیے پہلے سے ہی انتظامات کر رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم نے پیشگی ضروری اقدامات کر لیے تھے، اب نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، اور ان تنصیبات کی بحالی ہماری منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔ ہمارا ہدف پیداواری یا مرمتی عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بچنا ہے۔












