اتر پردیش کی کل 80؍لوک سبھا سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلم خواتین سے بطور بھائی جان جوڑنے کی تیاری ، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے کہا خوف و دہشت میں ہے ملک کا مسلمان
اتر پردیش کے 20؍فیصد مسلمانوں پر نظر مرکوز
اس مہم سے سماجوادی پارٹی سب سے زیادہ فکر مند
مسلمانوں کو پیچھے لات مارتی ہے بی جے پی
بی جے پی کی مہم کا مسلم خواتین پر کیا ہوگا اثر ؟
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍ میں ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کے لیے شب و روز کام کرنے میں مصروف بی جے پی اپنے ساتھ مسلمانوں کو جوڑنے کے لیے نئے نئے نعروں کا استعمال کر رہی ہے۔پہلے پسماندہ مسلمان ، پھر صوفی مسلمان اور اب خواتین مسلمان کا نعرہ سامنے آیا ہے ۔بی جے پی نے اپنے اقلیتی مورچہ کو اس کام پر لگا رکھا ہے کہ مسلمانوں کو جوڑنے کا ماحول تیار کیا جائے۔بی جے پی کی نظر ملک کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش پر ہے جہاں کل 80؍لوک سبھا سیٹیں ہیں۔بی جے پی ان سبھی سیٹوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے لیکن اس کو لگتا ہے کہ جب تک یہاں کا 20؍فیصد مسلمان اس کے ساتھ نہیں آتا ،یہ ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے اب ’شکریہ مودی بھائی جان ‘ کے نام سے بی جے پی اقلیتی مورچہ ایک نئی مہم کا آغاز دو جنوری سے کرنے جا رہا ہے ۔حالانکہ اقلیتی مورچہ کے اس عمل کو مسلمانوں کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف تصور کیا جا رہا ہے تاہم یہ بھی دلچسپ ہے کہ جہاں ایک طرف خود کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں مسلمانوں کا نام لینے سے ڈر رہی ہیں وہیں دوسری طرف بی جے پی کھل کر مسلمانوں کی بات کر رہی ہے ۔مسلم خواتین کو تین طلا ق سے آزادی ، خواتین کے سبھی منصوبوں میں برابری کی حصہ داری، سفر حج میں محرم کے بغیر عورتوں کو حج پر جانے کی چھوٹ کو پیش کرتے ہوئے بی جے پی کا اقلیتی مورچہ اب شکریہ مودی بھائی جان کی مہم کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ مودی کابینہ میں کوئی مسلم کیوں نہیں ہے ؟ اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ بی جے پی میں کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ کیوں نہیں ہے ؟ قانون سازی سے مسلمانوں کو کیوں دور کیا جا رہا ہے ؟ اقلیتی اداروں کو کیوں ختم کیا جا رہا ہے ؟ تاہم زمینی سطح پر مسلم خواتین کو لبھانے کی بات چیت چل رہی ہے ۔ بی جے پی کی اس مہم پر سماجوادی پارٹی کی جانب سے شدید رد عمل آیا ہے کیونکہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی مسلمانوں کو اپنا ووٹ بینک تصور کرتی ہے۔سماجوادی پارٹی کے مرادآباد سے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے بی جے پی کی اس مہم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی مسلم خواتین کے بھائی جان نہیں ہیں بلکہ یہ تو نپور شرما کے بھائی جان ہیں ،اس لیے ان پر آج تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان حضور اکرم حضر ت محمد مصطفی ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو ووٹ نہیں کر سکتا ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم خواتین بی جے پی کے پروگرام میں شامل تو ہو سکتی ہیں لیکن وہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گی۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی مسلسل مسلمانوں کا دل دکھا رہی ہے ۔ کہیں حجاب پر پابندی عائد کرکے ،کہیں مسجد اور نماز پر پابندی لگا کر ۔ ایس ٹی حسن نے کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کو پیچھے سے لات مارتی ہے اور امید یہ کرتی ہے کہ مسلمان انھیں شکریہ ادا کرے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں میں خوف و دہشت ہے اور مستقبل کو لے کر فکر مند بھی ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ تین طلاق قانون کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے چنانچہ اس کی وجہ سے بی جے پی کو ووٹ ملنے والا نہیں ہے ۔
mumtazshalam@gmail.com
+91 9899775906












