محمد جنیدقاسمی
اناؤ،سماج نیوز سروس : اصلاح معاشرہ جمعیۃ علماء ضلع اناؤ کاتعمیری شعبہ’مذاکرہ ٔ علمی‘ کے تحت مسجداقصیٰ اتردھنی میں ایک علمی نشست منعقد ہوئی ، جس میں صدقۃ الفطر کے تعلق سے مسائل پرگفتگو ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق جمعیۃ علماء ضلع اناؤ کاتعمیری شعبہ ’مذاکرۂ علمی ‘ کے عنوان سے ایک علمی نشست منعقدہوئی،جس کی صدارت مولانا مختارعالم مظاہری صدرجمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے کی ۔ اس موقع پر مولانا سفیان جامعی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے نشست کے مقاصدپرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے جو انسانی زندگی کے ہر گوشہ کا احاطہ کرتا ہے اور ہر موقعہ پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے، اس میں خوشی اور غم دونوں مواقع پر شریعت کی حدود متعین کی گئی ہیں، اور اس کے طریقے بتلائے گئے ہیں،اسی لئے عیدکے موقع پر صدقۂ فرطرکے نکالنے کا حکم دیاگیاہے،اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے،کہ مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے کپڑوں میں خوشی خوشی اچھلتا کودتا دیکھتا ہے تو غریب کے مرجھاتے ہوئے چہرے اس سے دیکھے نہیں جاتے، اس وجہ سے اس دن صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے، تاکہ غریبوں کو بھی اس خوشی میںشامل کیا جائے،مزید انہوں نیت کہاکہ ااس کے دومقاصداور بھی ہیں:(۱) روزہ کی کوتاہیوں کی تلافی۔(۲) امت کے مسکینوں کے لیے عید کے دن رزق کا انتظام تا کہ وہ بھی اس روز لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ مذاکرۂ علمی کے دوران مفتی محمد جنیدقاسمی کنوینراصلاح معاشرہ جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے شرکاء سے بازار کی قیمت کی معلوم کی ،اور مفتیان کرام اور علماء کی موجودگی میں اشیاء کی قیمت متعین کی ۔ مفتی محمد جنیدقاسمی نے یہ بھی واضح کیاکہ : یہ نرخ اناؤ ،بانگرمؤ اور اطراف کے لئے ہے، گندمسے۵۰روپئے۔جوسے ۹۰ روپئے،کشمش سے ۱۴۰۰روپئے،کھجورسے ۱۲۲۵روپئے،چھوہارہ سے ۱۰۵۰ روپئے ،پنیر سے ۹۸۰روپئے۔ یہ قیمت اہل علم کی موجودگی میں طے ہوئی ہے۔ اس موقع پر قاضی سید ضیاء العارفین شہرقاضی بانگرمؤ سے بھی فون پر رابطہ ہوااور جو کی قسموں پر گفتگوہوئی۔ مذاکرۂ علمی کا یہ تیسراسال تھا۔الحمدللہ پابندی سے یہ مذاکرہ رمضان کے مہینے میں ہوتاہے۔مفتی ضیاء الدین قاسمی اور مفتی سہیل جامعی نے اپنے مفیدمشوروں سے نوازا، اس نشست میں مولانا سلیم مظاہری،مفتی ضیاء الدین قاسمی ،مفتی سہیل جامعی، مولانا مفیض قاسمی ،مولانا عبدالقادرندوی،مولوی شفاعت علی،حافظ شکیل جامعی،حافظ رفاعت،تقی الزماں ،سلطان قمر، محمد حفیظ، وسیم خان وغیرہ موجود رہے۔ مولانا مختارعالم کی دعاء پر علمی نشست ختم ہوئی ۔












