بیروت (ہ س)۔لبنان کے بعلبک ھرمل صوبے کے گورنر کا کہنا ہے کہ ملک کی مشرقی وادی بقاع میں ایک اسرائیلی حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔گورنر بشیر خضر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت سات شامی شہری اور تین لبنانی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل دو اموات کی اطلاعات بعلبک ھرمل صوبے کے علاقے شمسطار سے بھی آئی تھیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ کے عسکری مقامات اور اس کی رضوان فورس کی تربیت گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے جان لیوا اسرئیلی حملہ تھا۔حزب اللہ کی جانب سے اس حملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم المنار چینل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جنگ بندی کے معاہدے اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان اویچے ادرائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ منگل کو حزب اللہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔’ان حملوں میں رضوان فورس سے منسلک مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دہشتگردوں کے زیرِ استعمال جنگی ساز و سامان کی موجودگی کی شناخت ہوئی تھی۔خیال رہے رضوان فورس حزب اللہ کا ایلیٹ کمانڈو یونٹ ہے۔آئی ڈی ایف نے انگریزی میں جاری ہونے والے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ستمبر 2024 میں رضوان فورس کے کمانڈروں کو ہلاک کیا تھا اور اس کے بعد سے حزب اللہ کا ایلیٹ یونٹ اپنی ’صلاحیتوں کو بحال کر رہا ہے۔خیال رہے گذشتہ برس اسرائیل نے لبنان کے خلاف فضائی حملوں کی ابتدا کی تھی اور ملک کے جنوبی علاقوں پر حملہ کیا تھا۔اسرائیلی فوج کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے اسلحہ جمع کرنا اور وادی بقاع میں عسکری سرگرمیاں ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسرائیلی ریاست کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کہتے ہیں کہ تازہ اسرائیلی حملے لبنانی حکومت اور حزب اللہ کے لیے ’واضح پیغام‘ ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کی ’بحالی کی کسی بھی کوشش کے خلاف پوری قوت سے ردِعمل دینے کے لیے تیار ہے۔گذشتہ برس نومبر میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی بنیاد اقوامِ متحدہ میں سنہ 2006 میں منظور ہونے والی 1701 قرارداد تھی۔اس قرارداد کے تحت حزب اللہ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ لبنان میں اسرائیلی سرحد سے 30 کلومیٹر دور علاقے میں موجود اپنے جنگجوؤں کا انخلا کرے گی اور ان علاقوں میں صرف لبنانی فوجی اور اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔اس قرارداد کے تحت اسرائیل کو لبنان سے اپنی فورسز کو بھی نکالنا تھا مگر اسرائیل اب بھی ملک کے پانچ مقامات پر عسکری موجودگی رکھتا ہے۔گذشتہ برس نومبر میں اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ لبنان میں ’تمام مسلح گروہوں کو غیرمسلح‘ کیا جائے گا۔












