تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی فوج ایران کے ساتھ 12 روزہ شدید جنگ کے بعد اب بھی مکمل طور پر چوکس ہے۔ اس دوران اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں بھڑکی جنگ اور گزشتہ موسمِ گرما میں حزب اللہ کے خلاف لبنان میں بھڑکنے والی لڑائی بھی جاری ہے۔ اس ایسے میں رپورٹیں آ رہی ہیں کہ اسرائیلی فوج کو ہتھیاروں کی قلت کا سامنا ہے۔امریکی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج کو بعض اہم اسلحے کی قلت درپیش ہے۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے ’این بی سی‘ نے بدھ کے روز دو اعلیٰ امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتائی۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل، جو اپنے زیادہ تر جدید اور طاقت ور ہتھیار امریکا سے درآمد کرتا ہے، اس وقت خاص طور پر گولہ بارود کی شدید کمی کا شکار ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تناؤ پیدا ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ منگل کی صبح شروع ہونے والی جنگ بندی میں دونوں متحارب فریقوں کی جانب سے خلاف ورزی ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے قطر کی ثالثی سے اچانک اعلان کردہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران اور اسرائیل دونوں پر ناراضی کا اظہار کیا۔یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں ابھری ہے جب امریکی بحریہ کے قائم مقام آپریشنز چیف، جیمز کلبی، نے منگل کے روز سینیٹ میں بیان دیا کہ امریکی بحریہ کے پاس اسرائیل کے دفاع کے لیے مطلوبہ میزائلوں کی تعداد موجود ہے، لیکن انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ ان میزائلوں کا استعمال’تشویش ناک رفتار سے ہو رہا ہے‘۔امریکہ نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں کے خلاف اسرائیل کی مدد کی، اور گزشتہ دو برسوں میں یمن سے داغے جانے والے میزائلوں کو روکنے میں بھی اس کا ساتھ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا نے غزہ میں جاری جنگ میں بھی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔












