تل ابیب (ہ س)۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ حملہ منگل کے روز حزب اللہ کی لاجسٹک سرگرمیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ نبطیہ کے علاقے میں کی گئی اس فضائی کارروائی میں ’عدنان محمد صادق حرب‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ وہ حزب اللہ کے "بدر یونٹ” کے تحت لاجسٹک سپورٹ یونٹ کا سربراہ تھا، اور شمالی لیطانی کے علاقے میں سرگرم تھا۔بیان کے مطابق، عدنان حرب حزب اللہ کے یونٹوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور دریائے لیطانی کے جنوب میں تنظیم کے عسکری انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کا ذمہ دار تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس کی سرگرمیوں کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی اصولوں کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔ادھر، منگل کی شام اسرائیلی ڈرون طیارے نے لبنان کے جنوب میں کفر رمان اور نبطیہ کے درمیان ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملہ ایک رہائشی علاقے کے قریب جامعات روڈ” پر ہوا اور میزائل گاڑی پر داغا گیا۔حزب اللہ نے بھی اس فضائی حملے میں اپنے ایک رکن، عدنان حرب، کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔دوسری طرف، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے جہاں اسٹریٹجک ہتھیار تیار اور ذخیرہ کیے جا رہے تھے”۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حزب اللہ اپنی سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یاد رہے کہ 27 نومبر کو فائر بندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے 18 فروری کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود جنوبی لبنان سے مکمل انخلا نہیں کیا، اور اب بھی وہ پانچ لبنانی پہاڑی چوٹیوں پر فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔












