ویانا(ہ س)۔اسرائیل نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے مدادی شعبوں کے اعلی حکام کے ویزوں کی تجدید سے بھی انکار کر دیا ہے۔ یو این کے یہ اعلی حکام فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی طرف سے تفویض کردہ زمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے آنا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے اس بارے میں جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ویزوں کی تجدید سے منع کر دیا ہے۔ ترجمان ایری کانیکو کے مطابق اسرائیلی جنگی کارروائیوں کے متاثرہ فلسطینی علاقوں اور فلسطینیوں تک رسائی کے حوالے سے خطرات سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا حال ہی میں اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے سٹاف کے ویزے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مختصر وقت کے لیے جاری کیے تھے۔ یا ان کی تجدید کی تھی۔ اب ان کی تجدید کی ضرورت ہے تاکہ غزہ میں اپنے فرائض کی انجام دہی کر سکیں۔ لیکن اسرائیل نے تجدید ویزہ کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اسی طرح اسرائیل نے مقامی فلسطینی سٹاف ممبران کو یروشلم میں داخل ہونے کی اجازت بھی روک دی ہے۔یاد رہے غزہ اسرائیلی جنگ کی وجہ سے مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔اس جنگ کے دوران تقریبآ پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اب تک اسرائیلی فوج نے ساڑھے اٹھاون ہزار سے زائد فلسطینی قتل کر دیے ہیں۔ ان مقتولین کی بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔بمباری سے جاری نسل کشی کے ساتھ ساتھ اب کافی عرصے سے اسرائیلی فوج نے غزہ میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر فلسطینی بے گھر لاکھوں افراد اور ان کے بچوں پر مسلط کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں غزہ کی ایسی سخت ناکہ بندی جاری ہے کہ ادویات اور پانی یا ایندھن کی غزہ منتقلی بھی غیر ممکن بنا دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سٹاف اور امدادی کارکنوں کی غزہ تک رسائی بھی روکنے کی کوشش میں اسرائیل اور اس کی فوج کامیاب نظر آتی ہے۔ایری کانیکو نے بتایا ہے کہ پچھلے ہفتے کے دوران اسرائیل نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس علاقے میں موجودہ سربراہ جوناتھن وائٹال کے ویزے میں بھی اب تجدید نہیں کی جائے گی۔ کانیکو نے کہا یہ انکار اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں اقوام متحدہ کے مقامی حکام نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی شہریوں کو اس وقت بھی متواتر ہلاک کر رہی ہے جب وہ خوراک کے حصول کے لیے اس کے منظور شدہ امدادی مراکز پر آتے ہیں۔ادھر نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے اسرائیلی مشن نے ابھی اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے نہ موقف ظاہر کیا ہے۔ البتہ اسی ہفتے کے اواخر میں اسرائیلی سفیر برائے اقوام متحدہ نے ایک خط لکھ کر اقوام متحدہ سے یہ کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں انسانی حقوق کے جائزے کے لیے موجود کمیشن کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ کمیشن بقول اسرائیلی سفیر ‘یہود دشمنی’ کا مرتکب ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مرتب کردہ جائزے کے مطابق پچھلے چھ ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے امدادی مراکز پر آنے والے 900 سے زائد بے گھر فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خوراک کے حصول کے لیے آئے اور موت کی نیند سلا دیا گیا۔












