روم؍ نئی دہلی۔ ایم این این۔ یورپی حلقوں میں بھارت کو اب ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت، متبادل اقتصادی شراکت دار، اور انڈو پیسفک میں اسٹریٹجک توازن کے اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اٹلی نے بھی نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو تیزی سے وسعت دینا شروع کر دی ہے۔ حالیہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اٹلی کا بھارت کی جانب بڑھتا جھکاؤ دراصل یورپ کی وسیع تر “انڈو پیسفک ٹرن” حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں چین پر بڑھتے انحصار، عالمی سپلائی چین خدشات، اور جغرافیائی کشیدگی نے نئی دہلی کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ اطالوی پالیسی سازوں اور صنعتی حلقوں کا ماننا ہے کہ تقریباً 1.5 ارب آبادی والا بھارت نہ صرف ایک بڑا صارف بازار ہے بلکہ مستقبل میں یورپی برآمدات، سرمایہ کاری، اور صنعتی شراکت داری کا اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم جارجیا میلونی اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والا “اٹلی بھارت ایکشن پلان 2025-2029” دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، خلائی تعاون، ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی، تحقیق، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ دفاعی تعاون بھی تیزی سے دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی محور بنتا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور اطالوی وزیر دفاع گوئیڈو کروسیتو کے درمیان حالیہ ملاقات میں 2026-27 کے لیے دوطرفہ فوجی تعاون منصوبے کا تبادلہ کیا گیا، جس میں بحری سلامتی، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، اور دفاعی صنعتی شراکت داری پر زور دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے بحر ہند خطے میں میری ٹائم سکیورٹی اور معلوماتی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی ہے، جبکہ بھارت کے “آتم نربھر بھارت” پروگرام اور اٹلی کی دفاعی صنعت کے درمیان اشتراک کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ یورپی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ بھارت اور یورپ کے درمیان قربت کی ایک بڑی وجہ چین کے حوالے سے مشترکہ خدشات بھی ہیں۔ 2019 کے بعد چین کے ساتھ یورپ کے تعلقات میں کشیدگی نے نئی دہلی کو یورپی خارجہ پالیسی میں زیادہ اہم مقام دلوایا۔ اطالوی برآمدی ادارے، مالیاتی ایجنسیاں، اور صنعتی گروپس بھی بھارت میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت مستقبل میں اطالوی برآمدات کو دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ نئی دہلی میں اطالوی تجارتی و سرمایہ کاری اداروں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اٹلی اور بھارت کے تعلقات اب صرف تجارت تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں ممالک ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس میں انڈو پیسفک استحکام، دفاعی تعاون، سپلائی چین تنوع، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کریں گی۔












