ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوز سروس: بلند شہر میں سیکورٹی ایجنسیوں اور مقامی پولیس نے ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم اپنی اصل شناخت چھپا کر تقریباً 40 سال سے ہندوستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف یہاں اپنا ٹھکانہ بنایا بلکہ فرضی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے اہم سرکاری دستاویز وں کی بنیاد پر ڈرائیونگ لا ئسنس اور آدھار کارڈ جیسے دستاویز تیار کرالیے تھے ۔پولیس نے ملزم کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیاہے ۔ صدر کوتوالی انچارج دھرمیندر سنگھ راٹھور کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم دیر رات گشت پر تھی۔اسی دوران مخبر کی ذریعے اطلاع ملی کہ ایک پاکستانی شہری جو کافی عرصے سے سشیلا وہار کے علاقے میں فرضی شناخت پر رہ رہاہے اور کسی کام سے وہ نمائش گرائونڈ کی طر ف جانے والا ہے ۔ پولیس نے فوری طور پر ناکہ بندی کر کے ملزم کو ریلوے لائن کے قریب سے حراست میں لے لیا۔تلاشی کے دوران ملزم کی جیب سے ایک آدھار کارڈ اور بلند شہر کا مقامی پتے والا ڈرائیونگ لائسنس برآمد ہوا۔ تاہم سخت پوچھ گچھ کے بعد ملزم نے اپنے جرم کااعتراف کیا ۔ اس کی شناخت سید واسط علی ولد سید لئیق احمد کے طور پر ہوئی جو کراچی پاکستان کا رہائشی ہے ۔ اس کے پاس سے پاکستانی پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بھی برآمد ہوئی ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں انکشاف ہوا کہ اس کی کہانی چار دہائیوں پرانی ہے ۔اس کی والدہ بلقیس کو کراچی میں طلاق ہو گئی تھی ، اس کے بعد انہوں نے بلند شہر کے سینتھلاساکن ایک شخص سے نکاح کر لیا تھا ۔وا سط اپنی تین بہنوں کے سا تھ ماں کے ہمراہ ہندوستان آیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بہنوں کو طویل مدتی ویزا (LTV) مل گیا تھااوروہ یہیں آباد ہو گئیں، لیکن وا سط کی قانونی پیچیدگیاں ختم نہیں ہوئیں ،اس نے کئی بار ویزا کے لیے اپلائی کیا لیکن ہر بار اس کی درخواست مسترد یا زیر التواء رہی۔ پولیس کی تفتیش میں واسط کی طویل مجرمانہ تاریخ کا بھی انکشاف ہواہے۔سا ل 2012 میں اسے میرٹھ کے برہمپوری تھانہ علاقے میں غیر ملکی قانون کی دفعہ 14 کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے جعلی دستاویزات کا استعمال شروع کر دیا۔ اپنے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے اسے ہندوستان میں رہنے کی قانونااجازت نہیں مل رہی تھی ۔ اس لیے اس نے سرکاری مشینری میں گھس کر بھارتی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لیے مقامی سطح پر دھوکہ دہی کا سہارا لیا۔












