نئی دہلی25دسمبر، سماج نیوز سروس: نئی دہلی میونسپل کونسل کی جانب سے ایک پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں سنہری باغ میں واقع سنہری مسجدکو منہدم کرنے کے لئے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے اور اعتراضات ای میل کے ذریعے طلب کئے گئے ہیں ۔ یکم جنوری 2024 تک شام 05بجے تک ایل میلchief.architect@ndmc.gov.in کرسکتے ہیں ۔ اسٹنڈنگ کونسل کے وجیہ شفیق صاحب نے بتایا کہ حالانکہ میں یکم ستمبر کو ہی استعفیٰ دے چکا ہوں۔ سنہری مسجد کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر کارروائی جولائی 2023 میں چلی تھی۔اس پر کارروائی کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کی گئی جس میں دہلی ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کیا گیا ۔ جب تک میں اسٹنڈنگ کونسل میں رہا تب تک اس کا اسٹے رہا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 18دسمبر 2023 کو اس
پٹیشن کو ہی دہلی ہائی کورٹ نے ختم کردیا۔ با وثوق ذرائع کے مطابق اس معاملے میں اب تک جو کارروائی ہوئی ہے اس میں
ایسا لگتا ہے کہ قانون کے ذریعے کئے جانے والی کارروائی میں دہلی وقف بورڈ اور این ڈی ایم سی ایک پلیٹ فارم پر آگئے ہیں ۔ یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ اور این ڈی ایم سی نے مشترکہ طور پر طے کرلیا ہے کہ آئندہ جو بھی کارروائی ہوگی وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی۔ اور اس معاملے پر دونوں رضا مند ہوگئے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عرصہ سے دہلی وقف بورڈ سرکاری سطح پر سستی برت رہا ہے ۔ مثال کے طور پر دہلی وقف بورڈ نے بہت سے ایسے مقدمات میں سستی کا رویہ اپنایا ہے جہاں پر ٹھیک سے وکالت نہیں کی جاسکی ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ ایسے معاملات میں وقف بورڈ سنجیدہ نہیں ہے ۔ شاہی جامع مسجد کے پارک کو لیکر دہلی وقف بورڈ سنجیدہ نہیں رہا اور شاید ہی اسی لئے یہ پارک ایم سی ڈی کے ماتحت ہوگیا ہے ۔ واضح رہے کہ سنہری مسجد کے معاملہ میں شاہی امام احمد بخاری نے بھی وہاں کا دورہ کیا تھا جس کے بعد انہدامی کارروائی پر روک لگ گئی تھی۔ اس معاملہ پر دہلی وقف بورڈ کے سی ای او ریحان رضا صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔












