نئی دہلی، (یواین آئی) مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر متبادل ایندھن کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیا۔ نتن گڈکری نے یہاں ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ دوسرے لاجسٹکس شکتی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں دنیا نے سپلائی چین میں جس طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے، اس کے پیش نظر آنے والے وقت میں متبادل اور حیاتیاتی ایندھن پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، لیکن اگر ہائیڈروجن ایندھن کو اپنایا جائے تو ملک توانائی کا خالص برآمد کنندہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کو عالمی لاجسٹکس کا مرکز بنانا ہے۔ اس کے لیے ایسے مراکز تیار کیے جا رہے ہیں جہاں شاہراہیں، ریلوے، بندرگاہیں اور آبی راستے ایک ہی جگہ دستیاب ہوں۔ گڈکری نے بتایا کہ حکومت کا ہدف لاجسٹکس لاگت کو کم کر کے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 9 فیصد تک لانا ہے، جبکہ فی الحال یہ 14 سے 16 فیصد کے درمیان ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت ملٹی ماڈل لاجسٹکس انفراسٹرکچر پر ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، لوگوں کی آمدنی بڑھے گی، قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا، زراعت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کانفرنس میں ہندوستان کی برکس صدارت کے دوران تنظیم کے بڑھتے اثر و رسوخ اور عالمی تجارت میں ابھرتی معیشتوں کے کردار پر بھی غور کیا گیا۔ مختلف سیشنز میں بہتر تجارتی راستوں کی تشکیل، سپلائی چین کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل اور پیپر لیس تجارت کو فروغ دینے، مختلف ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور ماحول دوست لاجسٹکس کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی، آٹومیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ایک سیشن منعقد ہوا، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اسمارٹ ٹیکنالوجی کس طرح سپلائی چین مینجمنٹ کو بدل رہی ہے۔ اس دوران ڈرون پر مبنی لاجسٹکس کا ایک پروٹوٹائپ بھی پیش کیا گیا۔دریں اثنا مغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر حکومت نقل مکانی کرنے والے مزدوروں اور طلبہ کی سہولت کے لیے پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل (فری ٹو لیول) سلنڈروں کی فروخت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور یکم اپریل سے اب تک 17.83 لاکھ سے زائد سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں۔ صرف جمعرات کو ہی ملک بھر میں 81,000 سے زائد پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت ہوئے۔مغربی ایشیا کی صورتحال کے بارے میں معلومات دینے کے لیے جمعہ کو یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں مختلف وزارتوں کے سینئر حکام نے بتایا کہ پی این جی کنکشن بڑھانے کی مہم کے تحت مارچ سے اب تک 5.27 لاکھ کنکشنوں میں گیس کی سپلائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ 2.60 لاکھ مزید کنکشنوں کے لیے ڈھانچہ تیار ہے، جس سے کل کنکشنوں کی تعداد 7.87 لاکھ ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ 5.97 لاکھ نئے صارفین نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ حکام نے کہا کہ ملک بھر میں ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے خطے میں تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہندوستانی پرچم والے جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بندرگاہوں کا آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے اور کہیں بھی بھیڑ بھاڑ کی اطلاع نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پروازوں کی صورتحال میں بہتری کے باعث 28 فروری سے اب تک تقریباً 12.38 لاکھ مسافر اس خطے سے ہندوستان آئے ہیں۔












