جنیوا، (یو این آئی؍ایجنسیاں) سوئٹزرلینڈ کے لگژری ریزورٹ کے بار میں دھماکے سے 10 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئس پولیس نے بتایا ہے کہ کرانس مونٹانا کے لگژری ریزورٹ اِسکی کے ایک بار میں زوردار دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ سوئس پولیس حکام نے غیرملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اور دھماکے کی وجوہات سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا۔ بعد ازاں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ بار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بج کر 30 منٹ پر سیاحت کے لیے مشہور اِسکی زیزورٹ میں زوردار دھماکہ ہوا، دھماکے کے وقت نیو ائیر نائٹ منانے والے افراد کی بڑی تعداد بار میں موجود تھی۔دریں اثنا جمعرات کو کرانس-مونٹانا کے سوئس الپائن سکی ریزورٹ میں نئے سال کی شام کی تقریبات کے دوران ایک دھماکہ ہوا۔ خبر رساں ادارے دی مرر نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 40 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔سوئس پولیس نے جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ایک پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ 1:30 بجے ریزورٹ کے کنسٹیلیشن بار میں ہوا۔ اگرچہ پولیس نے ہلاکتوں کی تعداد جاری نہیں کی، تاہم انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد بشمول متعدد قومیتوں کے شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ کرانس مونٹانا شہر کو نو فلائی زون قرار دیا گیا ہے۔ پولیس اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ زخمیوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال جلنے والوں سے بھرے پڑے ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ جائے حادثہ انٹرلیکن سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جو ایک سیاحتی مقام ہے جو کرانس مونٹانا کے ایڈونچر اسپورٹس کے لیے مشہور ہے۔ دنیا بھر سے لوگ پیرا گلائیڈنگ، سکینگ اور ٹریکنگ کے لیے وہاں آتے ہیں۔ انٹرلیکن، جھیل تھون اور جھیل برائنز کے درمیان واقع ہے، الپس کے ایگر، مونچ اور جنگفراؤ پہاڑوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔ سوئس نیوز آؤٹ لیٹ بلک کے مطابق دھماکہ اور اس کے بعد لگنے والی آگ کنسرٹ کے دوران آتش بازی کی وجہ سے لگی ہو سکتی ہے۔اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دھماکے کی جگہ اور آس پاس کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ ریسکیو ہیلی کاپٹر ہر 10 منٹ پر اڑتے ہوئے دیکھے گئے۔












