شعیب رضا فاطمی
جنتا دل یونائیٹڈ نے جمعہ کے روز اپنی پارٹی کی ایک اہم میٹنگ دہلی میں کر نے کے بعد جس طرح کا سیاسی ماحول بنایا ہے وہ بی جے پی کو راس نہیں آیا ۔اور اس لئے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ آنے والے وقت میں راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ نتیش کمار کی شخصیت کو بھی بدنام کرنے کی کوئی بڑی پلاننگ بی جے پی کی طرف سے شروع کی جائے ۔کیونکہ جمعہ کی میٹنگ میں بہار سے دہلی آئے مختلف لیڈران سے نجی گفتگو میں جو باتیں نکل کر آ رہی ہیں وہ یہ ہے کہ اس بار جے ڈی یو کا ایک ایک ممبر یہی چاہتا ہے کہ نتیش کمار کو وزیر اعظم کا چہرہ بن کر سامنے آنا چاہیئے کیونکہ فی الوقت انڈیا الائنس میں نتیش کمار کے علاوہ کوئی دوسرا چہرہ ایسا نہیں ہے جو نریندر مودی کو ٹکر دے سکے ۔ نتیش کمار کے ایماندار ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ لاکھ کوشش کے باوجود مرکزی حکومت کی ایجنسیوں نے نتیش کمار کے خلاف کوئی ایسی فائل نہیں نکال سکیں جن پر نتیش کمار کے دستخط ہوں اور وہ فائل کمزور ہو ۔نریندر مودی کو اب یہ بھی لگنے لگا ہے کہ انڈیا الائنس کی دیگر پارٹیاں چاہے لاکھ ادھر ادھر کریں لیکن کانگریس کی بھی یہ مجبوری ہے کہ وہ نتیش کمار کے ساتھ کھڑی رہے ،اور شاید یہی وجہ ہے کہ سونیا گاندھی اور نتیش کمار دونوں لگاتار مایا وتی کے رابطے میں ہیں اور نتیش کمار اور سونیا گاندھی نے مایا وتی کو یہ آفر بھی دیا ہے کہ وہ اتر پردیش میں کم سیٹوں پر بھی صبر کر لیں ،کیونکہ ان سیٹوں کی کمی دوسری ریاستوں میں خود کانگریس کر دیگی ،اور جیسا کہ ذرائع بتاتے ہیں کہ مایا وتی اس آفر کو قبول بھی کر سکتی ہیں ۔اب بی جے پی نتیش کمار کی طرف سے صرف مایوس ہی نہیں ہے بلکہ خوفزدہ بھی ہے ،کیونکہ پچھلے دس دنوں سے گودی میڈیا مسلسل یہ پرچار کر رہا تھا کہ نتیش کمار ایک بار پھر این ڈی اے کا رخ کرنے والے ہیں ۔للن سنگھ کے مستعفی ہونے کی خبر کو بھی میڈیا نے جنتا دل یونائیٹیڈ کے پاش پاش ہونے سے جوڑ کر دکھایا ،اس دوران بی جے پی کی طرف سے بار بار یہ اعلان بھی کیا جاتا رہا کہ بی جے پی کے سارےدروازے نتیش کمار کے لئے بند ہیں اور اس طرح بی جے پی نتیش کمار کی شخصیت کو کمزور کرنے کی سازش کر رہی تھی ۔گودی میڈیا یہ باور کرانے میں مصروف تھی کہ نتیش کمار بی جے پی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں ۔اور اب جب یہ سارے افواہ اپنی موت آپ مرچکے ہیں تو ایک بار پھر مودی اینڈ کمپنی کو ڈر ستانے لگا ہے کہ اگر نتیش کمار کی سوشل انجینئرنگ نے کام کر دیا تو نتیش کمار بی جے پی کے کھاتے سے چالیس پچاس سیٹ بڑی آسانی سے نکال سکتے ہیں ۔اور اسی حکمت عملی کے تحت نتیش کمار اتر پردیش کے پھول پور سے انتخاب لڑنے کا ارادہ بھی کرچکے ہیں ۔یہ پھول پور جواہر لعل نہرو کی سیٹ ہے ۔نتیش کمار کا اتر پردیش سے انتخابی میدان میں اترنا بی جے پی کے لئے کم نقصاندہ نہیں ہے کیونکہ پھر اتر پردیش میں تمام کورمی ووٹ سمٹ کر انڈیا الائنس کی طرف آ جائے گا کیونکہ انہیں اشارہ مل جائے گا کہ 2024میں اگر انڈیا الائنس کامیاب ہوتی ہے تو نتیش کمار کا وزیر اعظم بننا طئے ہے ۔اور اس پیغام کے نشر ہوتے ہی پورے ملک میں یہ پیغام جائے گا کہ اب دلت ،مہادلت اور اوبی سی کے دن پھرنے والے ہیں کیونکہ اس وقت پورے ملک میں سوشل انجینئیرنگ کا سب سے بڑا چہرہ نتیش کمار کا ہی ہے ۔نتیش کمار سے مودی لابی کے خوفزدہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اپنے منہ اور اپنی میڈیا کے توسط سے خود کو فقیر کہنے والے وزیر اعظم نتیش کمار کی سادگی کے آگے کہیں کھڑے نہیں ہوتے ۔نتیش کمار آج بھی فائیو اسٹار کلچر سے بہت دور ہیں ۔وہ کسی بھی شہر میں کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کی جگہ اپنے کسی نجی دوست کے یہاں ٹھہرنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔نتیش کمار ایک گرہست ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے لیکن اسے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتا ہے اور کہاں رہتا ہے ۔لیکن خود کو فقیر کہنے والے کے دوست کا بیٹا بھی بی سی سی آئی کا جنرل سکریٹری ہے ۔جہاں تک سیاسی تجربہ اور مقبولیت کی بات ہے تو انڈیا الائنس کا تصور اور اسے منصہ شہود پر لانے کا جوکھم بھرا کام نتیش کمار نے جتنی آسانی سے کیا اس کی کوئی مثال نہیں ۔یہ نتیش کمار ہی ہیں جنہوں نے کیجریوال اور راہل گاندھی کو ایک میز پر بٹھا دیا ،ممتا بنرجی سے کانگریس کی میٹنگ کرا دی اور بی جے پی کے ایک امیدوار کے سامنے انڈیا الائنس کا ایک امیفوار کھڑا کرنے کا تصور دیا ۔ایک ایسا تصور جس پر ایمانداری سےکام کر کے ہی نریندر مودی اینڈ کمپنی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور ملک کو حقیقی ترقی کی شاہراہ پر لایا جا سکتا ہے ۔












