کانگریس کے تین بڑے لیڈران ملک ارجن کھرگے، سونیا گاندھی اور ادھیر رنجن چودھری کو دس پندرہ دنوں پہلے رام مندر ٹرسٹ کی طرف سے مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی بی جے پی کی طرف سے اور ان کے مکھیا نریندر مودی کی جانب سے ایک جال پھینکا گیا تھا جس میں کانگریس کو پھنسانے کا منصوبہ تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اگر کانگریس اس سیاسی اور انتخابی فائدے کے لئے22جنوری کے ہونے والے پروگرام میں شرکت کرے گی تو اس سے سارے پروگرام کو درست قرار دینے میں اسے مدد ملے گی اور دنیا کو یہ بتانے میں آسانی ہوگی کہ یہ پروگرام 2024ء کے جنرل الیکشن میں بی جے پی کو فائدہ دلانے کے لئے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ رام کے بھکت کی حیثیت سے اور ان سے پیار و محبت کے لئے کیا جارہا ہے۔ دوسرا مقصد تھا کہ اگر کانگریسی لیڈران اس سیاسی ایونٹ اور پروجیکٹ میں شرکت نہیں کریں گے تو انھیں ہندو مذہب اور رام کے خلاف کہہ کر کانگریس کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی۔ کانگریس دعوت نامہ پانے کے بعد یقینا گو مگو کی کیفیت میں مبتلا تھی لیکن یہ اچھی بات ہے کہ عجلت پسندی کا کانگریسی لیڈروں نے مظاہرہ نہیں کیا بلکہ بہت ہی غور و فکر اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ وہ اس سیاسی اور انتخابی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ فیصلے سے پہلے کئی باتیں کہی جاتی تھیں۔ ایک بات یہ کہی جاتی تھی کہ کانگریس کے لیڈران اگر شرکت کا فیصلہ کریں گے تو مسلم اقلیت ناراض ہوجائے گی اور کانگریس کو ووٹ نہیں دے گی۔ یہ بات انتہائی غلط تھی کیونکہ مسلمانوں کو کانگریس کی شرکت اور عدم شرکت سے کچھ لینا دینا نہ تھا اور نہ اس سے کوئی فائدہ اور نقصان تھا۔ مسلمانوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ بابری مسجد کے معاملے میں کانگریس کا کردار انتہائی خراب تھا۔ سنگھ پریوار کو رام مندر کی مہم میں کانگریس نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کانگریس کی مدد کے بغیر وشو ہندو پریشد یا سنگھ پریوار کی مہم کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو جب ملک کے وزیر اعظم تھے تو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ گووند ولبھ پنت تھے ۔ پنڈت جی نے گووند ولبھ پنت سے بابری مسجد سے رام مورتی ہٹانے کی ہدایت ضرور کی تھی مگر اس ہدایت میں اگر شدت ہوتی تو سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش سابق وزیر اعظم ہند کی ہدایت یا حکم کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے۔ اگر وہ اس ہدایت یا حکم کو نہیں مانتے تو پنڈت جی کانگریس میں اس قدر طاقت اور اختیار تھا کہ ان کو وہ سبکدوش کرسکتے تھے۔ ایسا کام کسی وجہ سے پنڈت جی نہیں کرسکے جس کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش اپنی ذہنی فرقہ پرستی کی وجہ سے بابری مسجد سے مورتی ہٹانے کے حکم کو نظر انداز کرتے رہے۔ پنڈت جی تو کم سے کم مورتی ہٹانے کی ادنیٰ درجے ہی میں کوشش کی، لیکن ان کے نواسہ راجیو گاندھی نے بابری مسجد کے معاملے میں بہت ہی ناپسندیدہ اور قابل اعتراض کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں وشو ہندو پریشد کے شرپسندوں کو شیلا نیاس (سنگ بنیاد) کرانے کی اجازت تک دے دی۔ رام مندر کی مہم کے اس قدر زیر اثر ہوگئے تھے کہ شیلا نیاس کے قریب سے اپنی ایک انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ فرقہ پرست ہندوؤں اور وشو ہندو پریشد کے لیڈروں اور کارکنوں کے لئے بابری مسجد کا تالا تک کھلوا دیا۔ نرسمہا راؤ کانگریس میں تھے لیکن ان کی ذہنیت آر ایس ایس والی تھی۔ ایک طرح سے ان کو بی جے پی کا پہلا وزیر اعظم کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اتر پردیش کے اس وقت کے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے ساتھ مل کر بابری مسجد کو دن دہاڑے شہید کروادیا۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو کانگریس کے کھاتے میں لکھا جائے گا اور کانگریس نے بابری مسجد کے انہدام میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس کی تردامنی جگ ظاہر ہے۔ کانگریس ہندستان کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے۔ آزادیِ ہند میں اس کا نمایاں کردار ہے۔ آزادی کی لڑائی اس کی قیادت میں لڑی گئی۔ ہندستان کی تعمیر اور ترقی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آزادی کی لڑائی میں اس کے نمایاں کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے لیکن ملک کو ایک ایسا دستور دیا بہت ہی جامع اور سیکولر ہے۔ یہ بھی کانگریس کا بڑا اور ناقابل فراموش کارنامہ ہے، لیکن یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کانگریس آہستہ آہستہ سیکولرزم کی پٹری سے اترتی گئی۔ راہل گاندھی کو اپنے آپ کو ہندو ثابت کرنے کے لئے جنیو تک پہننا پڑا۔ زیادہ دن نہیں ہوئے مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں کمل ناتھ نے ’سافٹ ہندوتو‘ کا گھٹیا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے انتخاب میں ناکامی ان کے ہاتھ لگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو تین سال سے راہل گاندھی کی سمجھ میں آگیا کہ ہندو ثابت کرنے یا بی جے پی کے ہندوتو لائن میں نرمی اختیار کرنے سے کانگریس کی شناخت باقی نہیں رہے گی۔ اس سوچ کی وجہ سے راہل گاندھی میں غیر معمولی تبدیلی آئی جس کی وجہ سے وہ واضح انداز سے آر ایس ایس کے نظریے اور فلسفے کے خلاف کانگریس کو صف آرا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ اس میں بہت حد تک وہ کامیاب رہے۔ اس کا سب سے زندہ مظاہرہ یا جیتی جاگتی تصویر ان کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ ہے جس سے کانگریس مضبوط ہوئی۔ کرناٹک اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات میں بھی بھارت جوڑو یاترا کا اچھا خاصا اثر پڑا۔ ہندستان کے ماحول میں بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہوئی۔ رام مندر کا افتتاحی پروگرام نہ صرف سیاسی ہے بلکہ مبنی بر فرقہ پرستی ہے۔ اڈوانی کی رتھ یاترا سے لے کر آج تک مودی کے رام مندر سے دلچسپی تک فرقہ پرستی اور نفرت کا زہر پھیلایا جارہا ہے۔ 22جنوری کو ایسا نفرت آمیز اور فرقہ پرستانہ پروگرام نہایت بڑے پیمانے پر مشتہر کرکے پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف محض ووٹ حاصل کرنے کے لئے دشمن بنانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔ نریندر مودی اپنی فرقہ پرستی میں اس قدر نمایاں کردار ادا کرنا چاہ رہے ہیں کہ رام مندر کے ذریعے یا اس کے پروگرام کے توسط سے ہندوؤں کے گھر گھر میں نفرت کی تاریکی پھیلانا چاہتی ہے۔ جس قدر بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے ۔ اگر مسلمانوں کے بجائے کوئی اور قوم یا فرقہ ہوتا تو اس کی بزدلی، پژمردگی اور مایوسی سامنے آتی۔ لیکن مسلمان اپنے اس ملک میں جس قدر ستائے گئے اور ستائے جارہے ہیں اپنے ایمان کی بدولت آج تک نہ وہ مایوس ہوئے، نہ متزلزل ہوئے اور نہ مشتعل ہوئے۔ وہ اپنے یقیں محکم، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم کے ذریعے ثابت قدمی کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔ کوئی ظالمانہ اور کافرانہ طاقت ان کے غیر معمولی یقین کو متزلزل کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ کانگریس کے اجودھیا تقریب میں شرکت نہ کرنے سے کانگریس کے خلاف بی جے پی کی مہم شروع ہوگئی ہے۔ انوراگ سنگھ ٹھاکر جیسے فرقہ پرست اور اسمرتی ایرانی جیسی فرقہ پرست خاتون کو مودی جی نے میدان میں اتار دیا ہے۔ کانگریس نے جو وجوہات اجودھیا ایونٹ میں نہ شرکت کرنے کی دی ہیں وہ پُر اثر ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دھرم ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نے مندر کو پولیٹیکل پروجیکٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ مندر ادھورا ہے پھر بھی ادھورے مندر کا افتتاح اپریل اور مئی میں ہونے والے جنرل الیکشن کے فائدے کے لئے کیا جارہا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک عوامی میٹنگ میں گزشتہ مہینے اسمبلی الیکشن کے دوران بیان دیا کہ اجودھیا جانے کے لئے ہر طرح سے لوگوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ کانگریس نے وزیر داخلہ کی بات تو کہی لیکن اس کو ملک کے سب سے بڑے فرقہ پرست کی بات کہنے سے نہ جانے کیوں گریز کیا جس میں انھوں نے 22جنوری کو گھر گھر دیوالی منانے یعنی نفرت پھیلانے کی بات کہی ہے۔ کانگریس کو ہندوؤں کے چار شنکر اچاریہ کے اجودھیا پروگرام کے بائیکاٹ سے بھی ہمت اور طاقت ملے گی۔ چار اچاریوں میں سے ہر ایک نے سیاسی اور انتخابی پروگرام میں شرکت کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایک شنکر اچاریہ نے تو صاف صاف کہا ہے کہ ’’ادھورے مندر کا افتتاح محض انتخابی فائدے کے لئے کیا جارہا ہے۔ یہ افتتاح سراسر ہندو شاستر کے خلاف ہے، اس میں جانا نہیں چاہئے‘‘۔ ایک دوسرے شنکر اچاریہ نے تو معنی خیز بات کہی ہے کہ ’’مودی جی جو کسی طرح بھی کسی بھی مندر کے افتتاح کا اہل نہیں ہیں ۔ کیا مودی جی جیسے شخص مندر کا افتتاح کریں گے تو کیا ہم وہاں تالیاں بجانے کے لئے موجود رہیں گے‘‘۔ گودی میڈیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کے حالی موالیوں کانگریس کے عدم شرکت کی مخالفت کی تشہیر میں ذرا بھی تاخیر سے کام نہیں لیالیکن ملک کے چار شنکر اچاریہ نے نہ صرف عدم شرکت یا بائیکاٹ کی بات کہی ہے بلکہ افتتاحی پروگرام کی مذمت بھی کی ہے اور اسے ہندو مذہب کے خلاف بھی قرار دیا ہے پھر بھی وہ ان کے خلاف منہ کھولنے کی جرأت نہیں کر رہے ہیں۔
اگر کانگریس عدم شرکت کی وجہ سے رام اور ہندو مذہب کے خلاف ہے تو کیا چاروں شنکر اچاریہ بھی رام اور ہندو مذہب کے خلاف ہیں؟ کانگریس کے فیصلے سے بی جے پی کے افتتاحی پروگرام کی قلعی آسانی سے کھلتی جائے گی کیونکہ کانگریس کے پاس بھی تشہیر کے ذرائع ہیں۔ شنکر اچاریہ کی ہندو دھرم میں بڑی اہمیت ہے لیکن ان کے بیانوں کی تشہیر زیادہ نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے پاس تشہیر کے ذرائع نہیں ہیں۔ کانگریس اگر بی جے پی اور مودی جی کے افتتاحی پروگرام کے مقاصد کو ٹھیک سے اور بڑے پیمانے پر عوام و خواص کے سامنے پیش کرے گی اور شنکر اچاریوں کے باتوں کو بھی پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی تو بی جے پی اور مودی کی چال دنیا کے سامنے طشت از بام ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ مودی جی جو اپنے آپ کو رام سے بھی بڑا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ناکام ثابت ہوں گے اور انتخابی فائدے بھی اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
عبدالعزیز











