علی گڑھ،سماج نیوز سروس: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عالمی یومِ صحت کے موقع پر مختلف تعلیمی اور آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کی جانب سے ایک علاقائی سمپوزیم اور جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ فزیالوجی کی جانب سے شجرکاری مہم شامل تھی۔ فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے زیر اہتمام ”ٹوگیدر فار ہیلتھ: اسٹینڈ وِد سائنس“ کے موضوع پر انڈین انٹیگریٹڈ کمیونٹی ہیلتھ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایک علاقائی سمپوزیم منعقد کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم اور صحت کے ماہرین نے عوامی صحت کے موجودہ چیلنجز پر غور و خوض کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر ایس کے رسانیا، ڈائریکٹر، لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج نے اپنے خطاب میں شواہد پر مبنی سائنسی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور صحت کے میدان میں پھیلی غلط فہمیوں اور توہمات سے دور رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے ”اے بی سی ڈی آف ہیلتھ“ یعنی آگاہی، وابستگی، عزم اور نظم و ضبط کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ذمہ دار اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے صحت کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کی نشاندہی کی اور معیاری طبی سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے تناظر میں۔ انہوں نے مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائنسی مزاج اور معقول طرزِ فکر کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ مہمانِ اعزازی اور وائس چانسلر کے او ایس ڈی پروفیسر اسفر علی خان نے کہا کہ صحت کو ہمہ جہتی انداز میں دیکھنا چاہیے، جس میں انسان، حیوان اور ماحول سب شامل ہوں۔ ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری نے بھی اسی نقط نظر کی تائید کرتے ہوئے انسانی، نباتاتی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا اور بیماریوں کی روک تھام میں غذائی تحفظ اور صاف پانی کی اہمیت پر زور دیا۔ اس سے قبل فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین اور آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر سید محمد صفدر اشرف نے صحت کے شعبے میں سائنسی اشتراک اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے کردار کو واضح کیا، جبکہ اجمل خان طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے سستی اور قابلِ رسائی صحت خدمات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تعلیمی سیشن میں شعبہ بایوکیمسٹری، جے این ایم سی کے پروفیسر معین الدین نے لیکچر پیش کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، جینومکس اور متبادل نظامِ طب کے امتزاج کے ذریعے صحت کے مستقبل پر روشنی ڈالی، خصوصاً پریسیژن میڈیسن اور ابتدائی تشخیص کے تناظر میں۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صبا زیدی نے کی، جبکہ اختتام ڈاکٹر عمار ابن انور کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اسی موقع پر جے این میڈیکل کالج کے شعبہ فزیالوجی نے شجرکاری مہم کا بھی انعقاد کیا، جس میں پروفیسر محمد اسلم اور پروفیسر گل آر نوی خان نے پودے لگائے اور عوامی صحت کے لیے ماحولیاتی پائیداری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اساتذہ، عملہ اور طلبہ نے اس اقدام کو سراہا اور تعلیمی برادری میں ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے میں ایسی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ پروگرام کے اختتام پر اس پیغام کو اجاگر کیا گیا کہ شجرکاری جیسے چھوٹے اقدامات مل کر ایک صحت مند ماحولیاتی نظام اور بہتر مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔












