نئی دہلی /سماج نیوز سروس ۔ایک ملک، ایک انتخاب کا راستہ ہموار کرنے کے لیے تشکیل کووند کمیٹی کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز ایک خط لکھا ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی کو بھیجے گئے اس خط میں انھوں نے کہا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت اختیار کرنے والے ملک میں ایک ساتھ انتخاب کرانے کے نظریہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کی پارٹی اس کی پرزور مخالفت کرتی ہے۔ملکارجن کھڑگے نے یہ خط اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سکریٹری نیتین چندر کے نام بھیجا ہے۔ اس میں مشورہ دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا ہے کہ ایک ساتھ انتخاب کرانے کا نظریہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے برعکس ہے۔ اگر ایک ساتھ انتخاب کا نظام نافذ کرنا ہے تو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی۔ کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ جس ملک میں پارلیمانی نظامِ حکومت اختیار کیا گیا ہو، وہاں ایک ساتھ انتخاب کے نظریہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پورے ملک میں ایک ساتھ انتخاب کرانے سے متعلق حکومت کا ایسا خاکہ آئین میں موجود وفاقی نظام کی گارنٹی کے خلاف ہے۔قابل ذکر ہے کہ سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی صدارت والی کمیٹی نے گزشتہ سال 18 اکتوبر کو کانگریس صدر کھڑگے کو ایک خط لکھا تھا اور ان سے ‘ایک ملک، ایک انتخاب معاملے پر مشورہ مانگا تھا۔ کانگریس صدر کھڑگے نے اس خط کے جواب میں 17 نکات پر مبنی اپنا مشورہ ارسال کیا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ حکومت اور اس کمیٹی کو شروع میں ہی اس موضوع پر ایماندار ہونا چاہیے تھا اور سمجھنا چاہیے تھا کہ وہ جو کوشش کر رہے ہیں، آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہے۔ اگر ایک ساتھ انتخاب کرانے ہیں تو آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں ضروری تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔اپنے خط میں ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور ملک کے لوگوں کی طرف سے میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سربراہ (رامناتھ کووند) سے پرخلوص گزارش کرتا ہوں کہ وہ آئین اور پارلیمانی جمہوریت کو تباہ کرنے کے لیے اٹھائے گئے مرکز کے قدم کو سمجھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی شخصیت اور ہندوستان کے سابق صدر کے عہدہ کا غلط استعمال نہ ہو۔ کانگریس صدر نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ کانگریس ‘ایک ملک، ایک انتخاب نظریہ کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ ایک خوشحال اور مضبوط جمہوریت کو بنائے رکھنے کے لیے اس نظریہ کو ترک کرنا ضروری ہے۔












