میزائل حملے میں 3؍خواتین ، 4؍بچے سمیت 9؍افراد ہلاک ، پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ایران کے قومی اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا احترام قائم، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ راہ عمل کے حصول کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی
حملے کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے کیا کہا
پاکستان نے کہا ایران ہمارا برادر ملک ہے
پاکستانی لوگوں کو ایرانی لوگوں سے بہت محبت ہے
ہم کسی بھی طرح کی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے
ہمارا یہ آپریشن خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر مبنی ہے
نئی دہلی : ایران کی جانب سے پاکستان کے بلوچستان میں کیے گئے دہشت گردٹھکانوں پر حملے کے ایک دن بعد ہی پاکستان نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں ۔حالانکہ اس حملے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے قومی اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا احترام کیا جاتا ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ راہ حل کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاہم دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پائی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملے میں 3؍خواتین ، 4؍بچے سمیت 9؍لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں ہلاک ہوئے لوگ ایرانی شہری نہیں ہیں جبکہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے ۔ علاوہ ازیں ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ایران میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے تاہم وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ‘آج صبح پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی مربوط اور خاص طور پر ٹارگٹڈ فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ اس آپریشن کا نام ‘مرگ بر سرمچار رکھا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ‘گذشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان نے ایران کے اندر اپنے آپ کو سرمچار کہنے والے پاکستانی نژاد دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں اپنے سنگین تحفظات کا مسلسل اظہار کیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے پاکستان کے میزائل حملے میں 3 خواتین سمیت 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ مرنے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ ۔ ‘پاکستان نے ان دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد کے ساتھ متعدد ڈوزیئرز بھی شیئر کیے ہیں۔ تاہم ہمارے سنجیدہ تحفظات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس انتہائی پیچیدہ آپریشن کا کامیاب انعقاد بھی پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ صورتحال کو خراب نہیں کرنا چاہتے تاہم دو تین گھنٹے پہلے تک ایران سے رابطے کا علم نہیں۔ آپریشن ‘مرگ بار سرمچار کے حوالے سے پوچھے گئے تمام سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی تمام تفصیلات پاکستان فوج کا شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) بتائے گا۔اس سوال پر کہ کیا پاکستان اور ایران کے دوران کسی تیسرے ملک نے ثالثی کی کوشش کی ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘میں ابھی تک کسی تیسرے ملک کی ثالثی سے آگاہ نہیں ہوں۔ اس سے قبل دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے ایران میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کی اطلاع ایک بیان میں دی تھی۔ بیان میں آپریشن ‘مرگ بار سرمچار کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ ‘پاکستان ایران کی خود مختاری اور علاقائی شناخت کا مکمل احترام کرتا ہے اور آج کی کارروائی کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کے لیے ہے جس پر پاکستان کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ایران ہمارا برادر ملک ہے اور پاکستان کے لوگ ایرانی لوگوں سے بہت محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مشترکہ مسائل اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور تعاون پر زور دیا ہے اور ان مسائل کے مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔












