نیویارک(ہ س)۔اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی انروا نے منگل کو کہا، 2024 سے غزہ میں اس کے زیرِ انتظام کلینکس میں سکرین کیے جانے والے 10 میں سے ایک بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ ہماری صحت کی ٹیمیں اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ غزہ میں غذائیت کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے بالخصوص چار ماہ سے زیادہ عرصہ قبل جب دو مارچ کو محاصرہ سخت کر دیا گیا،انروا کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولیٹ ٹوما نے عمان، اردن سے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا۔انروا نے کہا کہ جنوری 2024 سے ایجنسی نے اپنے کلینک میں پانچ سال سے کم عمر کے 240,000 سے زیادہ بچے بچیوں کی سکریننگ کی ہے۔ نیز کہا کہ جنگ سے پہلے غزہ کی پٹی میں غذائیت کی شدید قلت شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔ٹوما نے کہا، ” ہم نے ایک نرس سے بات کی جس نے بتایا کہ ماضی میں انہوں نے صرف نصابی کتابوں اور دستاویزی فلموں میں غذائیت کی قلت کے یہ کیسز دیکھے تھے۔انہوں نے مزید کہا، "دوا، غذائیت کی فراہمی، حفظانِ صحت کا سامان اور ایندھن سب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔اسرائیل نے 19 مئی کو غزہ میں 11 ہفتوں کی امدادی ناکہ بندی ختم کر دی تھی جس سے اقوامِ متحدہ کی محدود ترسیل دوبارہ شروع ہو گئی۔ تاہم انروا پر انکلیو میں امداد لانے پر بدستور پابندی عائد ہے۔اسرائیلی فوجی امداد کی رابطہ کار ایجنسی کوگاٹ نے کہا کہ اس نے 67,000 غذائی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کی جس سے شیرخوار بچوں کے فارمولا دودھ اور چھوٹے بچوں کے کھانے سمیت 1.5 ملین ٹن خوراک کی ترسیل ہوئی۔اس میں کہا گیا کہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی درخواستوں کے بعد حالیہ ہفتوں میں بچوں کی تقریباً 2,000 ٹن خوراک راہداری کے ذریعے غزہ لائی گئی ہے۔اسرائیل اور امریکہ نے حماس پر اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت کارروائیوں سے امداد چوری کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی حماس تردید کرتی ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن قائم کی ہے جس کے تحت امداد نجی امریکی سکیورٹی اور لاجسٹکس فرموں کے ذریعے تقسیمی مراکز تک پہنچائی گئی ہے۔ لیکن اقوامِ متحدہ نے اس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔پیر کے روز یونیسیف نے کہا کہ گذشتہ ماہ غزہ میں 5,800 سے زائد بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص ہوئی جن میں 1,000 سے زائد بچے غذائیت کی شدید اور انتہائی قلت کا شکار تھے۔ اس نے کہا کہ اس اضافے کا یہ مسلسل چوتھا ماہ ہے۔












