تہران(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ ہماری مسلح افواج کی جانب سے اسرائیل کو سزا دینے کے لیے کی جانے والی فوجی کارروائیاں تہران کے وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بجے تک، آخری لمحے تک جاری رہیں، اور یہی وہ وقت تھا جو تہران نے اپنی فوجی جوابی کارروائی روکنے کے لیے مقرر کیا تھا، بشرطیکہ تل ابیب اپنا ’حملہ بند کر دے‘۔عراقچی نے آج ’ایکس‘پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں کہا کہ ’ایرانی قوم کی جانب سے اپنی بہادر مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو ہمارے عزیز وطن کے دفاع کے لیے اپنے آخری خون کے قطرے تک تیار رہتی ہیں، اور جو دشمن کے ہر حملے کا آخری لمحے تک جواب دیتی رہیں۔امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران کے وقت کے مطابق صبح چار بجے کے بعد ایران پر کسی اسرائیلی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اس سے پہلے عراقچی نے’ایکس‘ پر ایک اور پیغام میں کہا تھا کہ اگر تل ابیب نے تہران کے وقت کے مطابق صبح چار بجے سے پہلے ’ایرانی قوم پر اپنا غیر قانونی حملہ‘ بند کر دیا، تو ایران اس وقت کے بعد مزید جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ’تہران کی فوجی کارروائیاں روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا‘۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا با ضابطہ خاتمہ ہو جائے گا۔‘ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ایران تقریباً چھ گھنٹے بعد فائر بندی کرے گا، جس کے بعد اسرائیل بارہ گھنٹے بعد جنگ بند کرے گا۔ٹرمپ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی "منگل کی صبح چار بجے گرین وچ کے وقت کے مطابق باقاعدہ طور پر شروع ہو گی۔امریکی صدر نے مزید کہاہم نے ایک ایسی جنگ کو روکا جو برسوں تک جاری رہ سکتی تھی۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ "اگر ایران اور اسرائیل کی یہ جنگ جاری رہتی تو اس سے پورا خطہ تباہ ہو جاتا۔ میں دونوں ممالک، اسرائیل اور ایران، کو اس بات پر مبارک باد دیتا ہوں کہ انھوں نے یہ ہمت اور فہم و فراست دکھائی کہ وہ اس جنگ کو ختم کر سکے، جسے بارہ روزہ جنگ کہا جانا چاہیے۔ٹرمپ نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا: خدا اسرائیل، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کو برکت دے۔












