بھوپال، اندور، (یو این آئی) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے آئندہ 17 جنوری کو متوقع مدھیہ پردیش کے اندور دورے سے قبل یہ شہر پوری طرح سیاست کا اکھاڑا بن چکا ہے۔ مسٹر گاندھی پینے کے آلودہ پانی سے تقریباً 20 سے زائد افراد کی موت کے معاملے پر 17 تاریخ کو اندور آنے والے ہیں۔ وہ یہاں متاثرین کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں گے۔ ان کے اس دورے سے قبل ریاست میں اس مسئلے پر حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کل اپنے اندور دورے کے دوران کسی کا نام لیے بغیر اس معاملے پر کانگریس اور قائدِ حزبِ اختلاف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مشکل دور کو محسوس کیا ہے، لیکن اگر آپ لاشوں پر سیاست کرنے آئیں گے تو اندور برداشت نہیں کرے گا۔ کوئی بھی برداشت کرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے آفات میں مواقع تلاش کیے اور سیاست کا راستہ اپنایا، تو اسے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔ آپ مثبت انداز میں مخالفت کریں، حزبِ اختلاف کی آواز حزبِ اختلاف کی طرح اٹھائیں، تو ہم سب اس بات سے متفق ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لیکن اگر آپ نے بات نکالی، تو بات بہت دور تک جائے گی۔وہیں کانگریس نے بھی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ بی جے پی والوں کی زبان اب بھی بھاگیرتھ پورہ کا خوف بڑھا رہی ہے! متاثرہ خاندانوں کے گہرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے! غرور میں ڈوبے ہوئے 23 سرکاری قتل کے مجرم اس قدر مغرور ہیں، کیونکہ عوامی رائے کی توہین ان کی عادت بن چکی ہے! اسی لیے یہ آنسوؤں میں ڈوبے اندور کے درد کو بھلا کر زبانی زہر اگل رہے ہیں! غلطی سدھارنے کی بجائے اب بھی ہٹ دھرمی کر رہے ہیں!اسی دوران مسٹر پٹواری نے مسٹر گاندھی کے دورے کے بارے میں کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف اس واقعے کو لے کر بہت فکرمند تھے۔ پورا واقعہ ان کے علم میں ہے۔ انہوں نے متاثرین کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی 17 جنوری کو اندور آمد متاثرہ خاندانوں اور شہر کے باشندوں کو حوصلہ، ہمدردی اور انصاف کی امید دے گی۔












