سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی سیاسی سرگرمی ایک نظر
جلد دونوں پارٹیوں کی ایک ساتھ ہوگی پریس کانفرنس
کانگریس سے اویناش پانڈے اور اجے رائےہوں گے
ایس پی سے راجندر چودھری اور نریش اتم پٹیل ہوں گے
اعلان ہو چکی سیٹوں میں کی جا سکتی ہے کچھ تبدیلی
کانگریس امیٹھی ، رائے بریلی ، پریاگ راج ، وارانسی ، مہاراج گنج ، دیوریا ، بانس گاؤں ، سیتا پور ، امروہا ، بلندشہر ، غازی آباد ، کانپور ، جھانسی ، بارابانکی ، فتح پور سکری ، سہارن پور اور متھرا سے چناؤ لڑیگینئی دہلی :کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی جو خود بھارت جوڑو نیائے یاترا میں شریک نہیں ہوئیں لیکن اتر پردیش میں انڈیا اتحاد کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد تقریباً ختم ہو گیا تھا اور یہ بات عام ہو گئی تھی کہ دونوں پارٹیاں اب الگ الگ میدان میں اپنے امیدوار اتاریں گی لیکن پرینکا گاندھی نے بات بنا لی۔ کانگریس پارٹی 17؍سیٹوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کے لیے تیار ہو گئی ہے ۔ رپورٹ یہ ہے کہ یوپی میں ایس پی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔اب کانگریس 17 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو نے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر تفصیلی بات چیت ہوئی جس کے بعد اتحاد کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان ہوئے فیصلے کے مطابق کانگریس 17 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ ایس پی باقی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ ایس پی امیدوار ہاتھرس سیٹ سے اور کانگریس امیدوار سیتاپور سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔صرف کانگریس امیٹھی اور رائے بریلی سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ دونوں پارٹیوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی، جس میں کانگریس سے اویناش پانڈے اور اجے رائے اور ایس پی سے راجندر چودھری اور نریش اتم پٹیل موجود ہوں گے۔دونوں پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کو لے کر ڈیڈ لاک کل رات تک جاری رہا جس کی وجہ سے ایس پی صدر اکھلیش یادو نے اعلان کرنے کے باوجود رائے بریلی میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے ترا میں شرکت نہیں کی۔ نیا ئے یاترا منگل کو امیٹھی، رائے بریلی کے راستے لکھنؤ آئی اور بدھ کی صبح اناؤ کے لیے روانہ ہوئی۔لکھنؤ میں بھی راہل کے دورے میں ایس پی کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ یوپی میں بھی انڈیا اتحاد ٹوٹ گیا۔ ایس پی نے بھی منگل کی دیر رات 11 ؍امیدواروں کا اعلان کیا تھا۔ اس میں اس نے وارانسی سیٹ سے بھی اپنا امیدوار کھڑا کیا جو پہلے کہا جاتا تھا کہ کانگریس کو دی گئی ہے۔ تاہم کانگریس کی رضامندی کے بعد یوپی میں انڈیا اتحاد برقرار رہے گا۔ایس پی نے اب تک 31 ؍سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ایس پی نے منگل کو امیدواروں کی تیسری فہرست جاری کی تھی۔ ایس پی کی پہلی فہرست 30 ؍جنوری کو سامنے آئی تھی۔ جس میں 16 ؍امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد دوسری فہرست 19 ؍فروری اور تیسری فہرست 20 ؍فروری کو جاری کی گئی۔ ایس پی نے اب تک یوپی کی 80 ؍لوک سبھا سیٹوں کے لیے 31؍ امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب پنجاب اور دہلی میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان بھی اتحاد ہو سکتا ہے ۔ چنڈی گڑھ میں انڈیا اتحاد کے امیدوار کی میئر کے الیکشن میں کامیابی کے بعد دونوں پارٹیوں کے حوصلے کافی بلند ہیں ۔حالانکہ جیت سپریم کورٹ کے فیصلے کے سبب حاصل ہوئی ہے تاہم جیت یہ انڈیا اتحاد کی ہی کہی جا رہی ہے اور خود دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اس کو انڈیا اتحاد کی جیت بتا رہے ہیں ۔حالانکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس کو صرف ایک سیٹ دینے کی بات کی ہے تاہم یہ دو یا تین سیٹ پر بات بن جائے ، ایسا کہا جا رہا ہے ۔پنجاب میں بھی اعلان کیا جا چکا ہے کہ عام آدمی پارٹی تنہا میدان میں اترے گی لیکن اب خبر آ رہی ہے کہ اتحاد ہو سکتا ہے ۔












