نوح،23جنوری: یوم جمہوریہ کو لے کر چاروں طرف پورے ملک میں جوش وخروش کا ماحول ہے۔ چاروں طرف 26جنوری (ریپبلک ڈے) کا جشن منانے کو لے کر دینی وعصری تعلیمی اداروں سمیت ریہرسلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کے پیش نظر میوات کے مشہور ومعروف دینی وتعلیمی ادارہ مدرسہ جامعہ عربیہ افضل العلوم مہوں کے طلبایوم جمہوری کے جشن سے قبل شاندار ریہرسل کی۔ اس موقع پر مولانا محمد داؤد امینی نے طلباکو ترنگا جھنڈے کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت بتائی۔ انھوں نے مسلمانوں کے اس ملک کو آزادکرانے کے پیش نظر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کہا کہ اس ملک کی آزادی کی خاطر علمائے کرام نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی گواہ اس وقت کے کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک سبھی درخت ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت میں کشمیر سے کنیا کماری تک ایسا کوئی درخت نہیں تھا جس میں کسی عالم یا حافظ کی لاش نہ لٹکی ہوئی ہو۔یہاں تک کہ چالیس-چالیس ہزار علمائے کرام کو ایک ساتھ دہکتے تنوروں میں ڈال دیا جاتا تھا ،لیکن کسی کی زبان سے اُف تک نہیں نکلتی تھی اور ان علماء نے انگریزوں کے غلامی کرنے سے بہتر اپنے آپ کو ملک وملت نثار اور قربان ہونا بہتر سمجھا۔مدرسہ کے مہتمم ماسٹر محمد قاسم ظفر نے بھی طلباکو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگِ آزادی میں علمائے کرام نے اپنی جان ومال کی قربانی دے کر ملک کو آزاد کرایا اور اس ملک کی حفاظت کیلئے مسلمانو ں نے ہمیشہ ایک سے بڑھ کر ایک قربانی پیش کی ہے۔ہندوستان کو آزاد کرانے کیلئے جو جنگیں لڑیں گئی ان میں علمائے کرام کی قربانیوں کی مثال اپنے آپ میں نمایاں ہے۔ واضح رہے کہ میوات کا یہ مشہور ومعروف تعلیمی ادارہ ہمیشہ سے ہی اعلیٰ درجہ کا پروگرام کا انعقادکرتا رہا ہے۔مدرسہ ہذا کے طلبا نے ابھی پچھلے دنوں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل سطح پر منعقدہ ’بھارت اسکاؤٹ گائیڈ‘ کے پروگرام میں بھی بے مثال کارکردگی کا اظہار کرتے ہوئے تقریباً9مقابلوں میں کامیابی حاصل کرکے میوات کے علاقے کا جھنڈا قومی سطح پر لہرایاتھا۔اس موقع پر محمد اظہر قاسم ظفر مولانا عبیداللہ ظفر قاسمی، مفتی رضوان، قاری محمد زکریا ،قاری انضمام سمیت مدرسہ کا تمام اسٹاف موجود رہا ۔












