ریاض (ہ س)۔سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گی’سعودی-امریکی بزنس فورم‘ آج منگل کے روز دبئی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ فورم 1993 میں قائم ہوا تھا اور آج بھی دنیا بھر کی بڑی کاروباری و ٹیکنالوجی شخصیات کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔افتتاحی سیشن میں امریکی وزیر خزانہ سکوت بیسنٹ اور سعودی وزیر مالیات محمد الجدعان شرکت کریں گے جو فورم سے افتتاحی خطاب بھی کریں گے۔ اس موقع پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بھی اظہارِ خیال کریں گے۔فورم میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی دنیا کی کئی بڑی شخصیات شریک ہو رہی ہیں، جن میں ٹیسلا کے بانی”ایلون مسک” ، ایمازون کے ینڈی جسی، بلیک راک کے لاری فِنک اور ڈیوڈ ساکس جیسے نام شامل ہیں، جو ڈیجیٹل کرنسیوں اور اْن کی موجودہ ترقی پر گفتگو کریں گے۔ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کے معروف رہنما جنسن ہوانگ بھی فورم سے خطاب کریں گے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کے انقلابی رجحانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔دوپہر کے وقت ایک انتہائی اہم اور متوقع خطاب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہوگا، جس میں دونوں رہنما اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے میں مشترکہ مستقبل کے منصوبوں پر گفتگو کریں گے۔العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اس بار فورم کی توجہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور سعودی عرب و امریکہ کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر مرکوز ہوگی۔یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ فورم کے اختتام پر کئی بڑے معاہدات اور منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔فورم کے پہلے دن کا اختتام سعودی ولی عہد اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ عشائیے پر ہوگا، جو تاریخی مقام الدرعیہ میں منعقد ہوگا۔ اس میں اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گے۔سعودی وزارتِ تجارت کے مطابق یہ فورم دونوں ممالک کے وزرائے تجارت کی زیر صدارت منعقد کیا جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔فورم میں کئی اعلیٰ حکومتی شخصیات، فیصلہ ساز اور ممتاز کاروباری مرد و خواتین شرکت کررہے ہیں جو دنیا کے مختلف اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے۔












