ریاض،( یو این آئی)سعودی ویلٹر ویٹ فائٹر احمد ابراہیم رواں ماہ کے آخر میں دبئی میں منعقد ہونے والے پی ایف ایل مینا ایونٹ کے ذریعے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ سعودی فائٹر اس بڑے پلیٹ فارم پر ایک دھماکہ خیز کارکردگی کے ذریعے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا پیغام دینے کے لیے پرجوش ہیں۔احمد ابراہیم کا مقابلہ 24 مئی کو دبئی کے کوکا کولا ایرینا میں مصر کے خالد محمود سے ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ ایونٹ پہلے رواں ماہ سعودی عرب کے شہر الخبر میں "رائز آف دی گلف” کے نام سے شیڈول تھا، جسے بعد میں ملتوی کر کے دبئی منتقل کر دیا گیا۔29 سالہ احمد ابراہیم گزشتہ چار ماہ سے سعودی عرب اور بحرین میں سخت ٹریننگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بحرینی تجربہ کار فائٹر حمزہ کوہیجی کے ساتھ تربیت حاصل کی ہے، جو خود بھی اسی کارڈ کا حصہ ہیں۔احمد ابراہیم نے کہاحریف کی تبدیلی سے مجھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں کسی بھی چیلنج کے لیے تیار ہوں اور میرا مقصد بالکل واضح ہے: میں صرف جیتنے کے لیے رنگ میں اتروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ کوہیجی ان کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ٹریننگ نے ان کی مہارت میں اضافہ کیا ہے۔احمد ابراہیم کا کھیلوں کا سفر روایتی نہیں رہا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک فٹ بال گول کیپر کے طور پر کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کامبیٹ اسپورٹس کا رخ کیا۔ وہ ایم سی ایل ریاض چیمپئن اور اے ڈی سی سی اوپن مڈل ایسٹ سلور میڈلسٹ بھی رہ چکے ہیں۔اپنی حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا”میں اس فائٹ کو جلد ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میں ‘سبمیشن کے ذریعے یہ مقابلہ جیت لوں گا۔سوشل میڈیا پر مقابلے کو لے کر جاری تناؤ کے حوالے سے ابراہیم نے واضح کیا کہ سعودی عرب، مصر اور تمام عرب ممالک بھائی بھائی ہیں۔ یہ ایک مقابلہ ہے جو باہمی احترام پر مبنی ہے۔انہوں نے دبئی میں سعودی عرب کی نمائندگی کو اپنے کیریئر کا اہم ترین لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں۔












