نئی دہلی: 26دسمبر /سماج نیوز سروس ۔پونچھ دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بڑا بیان دیتے ہوئے ہندوستان۔ پاکستان مذاکرات کی وکالت کی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت نہیں ہوتی ہے تو جموں و کشمیر کی حالت غزہ جیسی ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم بات چیت کے ذریعے کوئی حل نہیں نکالتے ہیں تو ہمارا حال بھی وہی ہوگا جو غزہ اور فلسطین کا ہورہا ہے، جن پر اسرائیل بمباری کررہا ہے۔’ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے منگل کو کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان بات چیت کے ذریعے تنازعات کو ختم نہیں کرتے ہیں تو کشمیر کا بھی غزہ اور فلسطین جیسا ہی حشر ہوگا، جن پر بمباری کی جا رہی ہے.
دراصل فاروق عبداللہ گزشتہ ہفتے پونچھ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کر رہے تھے، جس میں ہندوستانی فوج کے چار جوان شہید اور دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ دیکھئے میں نے ہر بار یہی کہا ہے۔ واجپئی جی نے کہا تھا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی رکھیں گے تو دونوں ترقی کریں گے۔ اگر دشمنی میں رہیں گے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی جی کا بیان ہے کہ جنگ اب کوئی آپشن نہیں ہے، مسائل کو بات چیت سے حل کرنے ہوں گے، میں پوچھتا ہوں کہ وہ بات چیت کہاں ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ آج عمران خان کو چھوڑ دیجئے، نواز شریف وہاں وزیر اعظم بننے والے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہم بات چیت کریں گے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں؟ اگر ہم نے اس کو بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا تو معافی چاہتا ہوں کہنے کیلئے کہ ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو آج غزہ اور فلسطین کا ہورہا ہے، جن پر آج اسرائیل کی طرف سے بمباری کی جارہی ہے ۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے، اللہ ہی جانے ہمارا کیا حال ہوگا ، اللہ رحم کرے ہم پر۔
بتا دیں کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے فاروق عبداللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ جمعرات کو دہشت گردوں نے پونچھ میں گھات لگا کر فوجی جوانوں پر حملہ کر دیا تھا، جس میں چار فوجی شہید ہو گئے تھے۔ دوسری جانب حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے اب تک فلسطین میں 20 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ReplyForward |
نئی دہلی: 26دسمبر /سماج نیوز سروس ۔پونچھ دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بڑا بیان دیتے ہوئے ہندوستان۔ پاکستان مذاکرات کی وکالت کی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت نہیں ہوتی ہے تو جموں و کشمیر کی حالت غزہ جیسی ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم بات چیت کے ذریعے کوئی حل نہیں نکالتے ہیں تو ہمارا حال بھی وہی ہوگا جو غزہ اور فلسطین کا ہورہا ہے، جن پر اسرائیل بمباری کررہا ہے۔’ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے منگل کو کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان بات چیت کے ذریعے تنازعات کو ختم نہیں کرتے ہیں تو کشمیر کا بھی غزہ اور فلسطین جیسا ہی حشر ہوگا، جن پر بمباری کی جا رہی ہے.
دراصل فاروق عبداللہ گزشتہ ہفتے پونچھ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کر رہے تھے، جس میں ہندوستانی فوج کے چار جوان شہید اور دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ دیکھئے میں نے ہر بار یہی کہا ہے۔ واجپئی جی نے کہا تھا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی رکھیں گے تو دونوں ترقی کریں گے۔ اگر دشمنی میں رہیں گے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی جی کا بیان ہے کہ جنگ اب کوئی آپشن نہیں ہے، مسائل کو بات چیت سے حل کرنے ہوں گے، میں پوچھتا ہوں کہ وہ بات چیت کہاں ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ آج عمران خان کو چھوڑ دیجئے، نواز شریف وہاں وزیر اعظم بننے والے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہم بات چیت کریں گے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں؟ اگر ہم نے اس کو بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا تو معافی چاہتا ہوں کہنے کیلئے کہ ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو آج غزہ اور فلسطین کا ہورہا ہے، جن پر آج اسرائیل کی طرف سے بمباری کی جارہی ہے ۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے، اللہ ہی جانے ہمارا کیا حال ہوگا ، اللہ رحم کرے ہم پر۔
بتا دیں کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے فاروق عبداللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ جمعرات کو دہشت گردوں نے پونچھ میں گھات لگا کر فوجی جوانوں پر حملہ کر دیا تھا، جس میں چار فوجی شہید ہو گئے تھے۔ دوسری جانب حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے اب تک فلسطین میں 20 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ReplyForward |












