نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی نے دہلی میونسپل کارپوریشن میں اس بار بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو میئر کے ساتھ ساتھ اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنانے کی کھلی پیشکش دی ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کی خالی تین نشستوں میں سے صرف ایک نشست پر شالیمار باغ سے کونسلر جلج کمار چودھری کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ جلج چودھری نے بدھ کے روز اپنا نامزدگی فارم بھی داخل کر دیا ہے۔ ’’آپ‘‘ چاہتی تو ایک اور نشست پر بھی امیدوار اتار سکتی تھی، لیکن خرید و فروخت میں یقین نہ رکھتے ہوئے اس نے میدان بھاجپا کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے۔ یہ معلومات ایم سی ڈی میں ’’آپ‘‘کے قائد حزب اختلاف انکُش نارنگ نے دی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا میئر کے ساتھ اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بھی بنائے اور دہلی میں کام کرکے دکھائے، تاکہ اس بار ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے۔انکُش نارنگ نے کہا کہ بدھ کو سوک سینٹر واقع ایم سی ڈی ہیڈکوارٹر میں عام آدمی پارٹی کی جانب سے دہلی میونسپل کارپوریشن کی اہم اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن کے عہدے کے لیے شالیمار باغ سے کونسلر جلج کمار چودھری نے نامزدگی داخل کی۔ یہ نامزدگی پارٹی کی مضبوط تنظیمی تیاری، شفاف طرزِ کار اور عوامی خدمت کے تئیں پختہ عزم کی علامت ہے۔ جلج کمار چودھری طویل عرصے سے اپنے علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے رہے ہیں اور ان کے تجربے سے کارپوریشن کے کام کاج میں مزید مضبوطی آئے گی۔ اس موقع پر سبھی نے متحد ہوکر انہیں مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی دعا کی۔میڈیا سے گفتگو میں انکُش نارنگ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے ایم سی ڈی اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے اپنا نامزدگی فارم داخل کر دیا ہے۔ وارڈ نمبر 55، شالیمار باغ سے پارٹی کے کونسلر جلج کمار چودھری کو نامزد کیا گیا ہے۔ وہ اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے موجودہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا آتی ہیں۔ جلج کمار چودھری ہمیشہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مفادات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور عوامی کاموں کے لیے وزیر اعلیٰ سے بھی ٹکر لینے سے نہیں ہچکچاتے۔ اب انہیں مکمل اختیار دیا گیا ہے تاکہ وہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں جا کر نہ صرف شالیمار باغ بلکہ پوری دہلی کے مسائل کو اٹھائیں۔تین نشستوں میں صرف ایک نامزدگی کرنے کے سوال پر انکُش نارنگ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی خرید و فروخت میں یقین نہیں رکھتی۔ پارٹی کا ایک قابل رکن اسٹینڈنگ کمیٹی میں جا رہا ہے۔ پارٹی چاہتی تو دوسرا امیدوار بھی کھڑا کر سکتی تھی، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپنی چار انجن والی حکومت چلا کر دکھائے۔ اس وقت مرکز، ایل جی، دہلی حکومت اور ایم سی ڈی سب کچھ بھاجپا کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں بھاجپا نے دہلی کے عوام کو مایوس کیا ہے، اب ان کے پاس کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہونا چاہیے۔ میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی سب ان کے پاس ہیں، اس لیے انہیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔ پچھلے سال جب آبی جماؤ، آلودگی اور سیلاب جیسے مسائل سامنے آئے تو بھاجپا کچھ نہیں کر پائی۔میئر انتخاب پر پارٹی کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے انکُش نارنگ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی خرید و فروخت کی سیاست سے دور رہتے ہوئے بھاجپا کو کھلا موقع دے رہی ہے کہ وہ اپنا میئر بنائے۔ گزشتہ سال بھی بھاجپا میئر لا کر کوئی کام نہیں کر سکی۔ اسٹینڈنگ کمیٹی بھی معمولی مسائل میں الجھی رہی اور میئر و چیئرمین آپس میں اختلافات کا شکار رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی بھاجپا کے اندر دو دھڑے بن چکے ہیںایک وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کا اور دوسرا وریندر سچدیوا کا۔ اب بھاجپا کو ایم سی ڈی میں کام کرکے دکھانا ہوگا، صفائی کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔












