کبھی کبھی تاریخ خود کو کسی بڑے اعلان کے ذریعے ظاہر نہیں کرتی، بلکہ وہ ایک چھوٹے سے لمحے، ایک جملے یا ایک غیر متوقع ردعمل میں اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے۔ اتر اکھنڈ سے سامنے آنے والا حالیہ واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بظاہر یہ ایک بازار کا منظر تھا، ایک دکاندار، چند لوگ اور ایک بحث۔ مگر اس منظر کے اندر جو معنی چھپے ہوئے ہیں، وہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ پورے عہد کی تشریح ہیں۔
ایک مسلمان دکاندار کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ یہ منظر اب نیا نہیں رہا۔ شناخت پوچھنا، نام پر سوال اٹھانا، اور پھر اس سوال کو طاقت میں بدل دینا، یہ سب ہمارے روزمرہ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ مگر اس دن اس منظر میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے نفرت کے پورے اعتماد کو لمحہ بھر کے لیے روک دیا۔اسی لمحے دیپک راوت آگے بڑھتا ہے۔ وہ نہ کسی بحث میں الجھتا ہے، نہ کوئی لمبی تقریر کرتا ہے۔ مگر جب نفرت کی زبان میں اس سے اس کا نام پوچھا جاتا ہے، تو وہ ایک ایسا جواب دیتا ہے جو صرف جواب نہیں رہتا، بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔
وہ خود کو ان غنڈوں کے سامنے “محمد دیپک” بتاتا ہے۔ یہ محض دو ناموں کا جوڑ نہیں تھا۔ یہ اس تقسیم پر ایک خاموش ضرب تھی جو نام، مذہب اور شناخت کے درمیان کھینچی جا رہی ہے۔ یہ ایک لمحاتی مگر گہرا سوال تھا: اگر نام بدل جائیں تو کیا انسان بدل جاتا ہے؟ اور اگر انسان ایک ہی رہے تو نام کیوں اتنے خطرناک ہو جاتے ہیں؟ یہاں “محمد” اور “دیپک” دو الگ شناختیں نہیں رہتیں، بلکہ ایک مشترکہ انسانی سچائی میں ڈھل جاتی ہیں۔ محمد، جو امن اور امانت کی علامت ہے، اور دیپک، جو اندھیرے میں جلنے والی روشنی کا نام ہے۔ یہ اتفاق نہیں، بلکہ ایک معنی خیز اشارہ ہے۔
دیپک دراصل دیے میں جلتی اس روشنی کو کہا جاتا ہے جو اندھیرے سے خوفزدہ نہیں ہوتی، جو ہوا کے دباؤ میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتی ہے، اور جو خود جل کر راستہ دکھاتی ہے۔ اس دن دیپک راوت نے بھی یہی کیا۔ وہ نفرت کے اندھیرے میں ایک لمحے کے لیے روشنی بن گیا۔ لیکن اس منظر کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں کہ دیپک راوت نے کیا کہا، بلکہ یہ ہے کہ سامنے کھڑے لوگ کتنے پُرسکون تھے۔ ان کے لہجوں میں گھبراہٹ نہیں تھی، ان کے انداز میں خوف نہیں تھا۔ جیسے انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ یہ سب کچھ قابلِ مواخذہ نہیں بنے گا۔ یہ اطمینان خودبخود پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل خاموشی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نفرت کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جو پورے اعتماد کے ساتھ سامنے آئے۔ جب نفرت کو یہ یقین ہو جائے کہ اس سے سوال نہیں کیا جائے گا، تب وہ نعرے نہیں لگاتی، وہ دلیل نہیں دیتی، وہ بس موجود رہتی ہے۔
اتر اکھنڈ کے اس واقعے میں یہی موجودگی سب سے زیادہ معنی خیز تھی۔ یہاں دیپک راوت کا کردار اس لیے نمایاں ہو جاتا ہے کہ وہ اس اطمینان کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ اپنے جواب سے یہ نہیں کہتا کہ میں کون ہوں، بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ تم کس بنیاد پر فیصلہ کر رہے ہو؟ اور یہی سوال نفرت کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم نفرت کے اس بے خوف رویے پر غور کریں۔ آخر وہ کون سی فضا ہے جہاں شناخت پر حملہ کرنا معمول بنتا جا رہا ہے؟ کون سا ماحول ہے جہاں کچھ لوگ اس یقین کے ساتھ گھومتے ہیں کہ ان کے اعمال پر گرفت نہیں ہوگی؟ یہ سوال کسی ایک چہرے یا کسی ایک دفتر کا نام نہیں لیتا، مگر اس کی سمت صاف محسوس ہوتی ہے۔ قانون اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، مگر قانون کی اصل طاقت اس کے نفاذ میں نہیں، بلکہ اس کے احساس میں ہوتی ہے۔ اگر قانون کا احساس کمزور پڑ جائے، تو دفعات کتابوں میں رہ جاتی ہیں اور گلیوں میں صرف طاقت بولتی ہے۔
اتر اکھنڈ کے اس منظر میں طاقت بول رہی تھی، اور قانون خاموش دکھائی دے رہا تھا۔ دیپک راوت کی مداخلت اسی خاموشی میں ایک چراغ کی مانند تھی۔ مگر چراغ کا کام صرف روشنی دینا ہوتا ہے، اندھیرے کو ختم کرنا نہیں۔ اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے پورا نظام حرکت میں آنا پڑتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال اور گہرا ہو جاتا ہے۔
اگر نفرت کرنے والے بار بار محفوظ رہیں، تو وہ جرات پکڑ لیتے ہیں۔ اور جرات ہمیشہ کسی نہ کسی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ یقین کہ “ہم اکیلے نہیں ہیں”، کہ “کہیں نہ کہیں کوئی ہے جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھے گا۔” یہ یقین کسی دن اچانک نہیں بنتا، یہ وقت کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ظلم کو ظلم کہنا ایمان کی علامت ہے، اور خاموشی بعض اوقات سب سے بڑا فتنہ بن جاتی ہے۔ یہی تعلیم ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ عدل کا دائرہ صرف اپنے لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس جگہ پھیلتا ہے جہاں انسانیت پامال ہو۔
دیپک راوت کا “محمد دیپک” کہنا اسی دائرے کی یاد دہانی ہے۔ یہ ایک اعلان تھا کہ انسان کو بانٹنے والی لکیر فطری نہیں، بلکہ کھینچی گئی ہے۔ اور جو لکیر کھینچی گئی ہو، وہ مٹ بھی سکتی ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب روشنی کو تنہا نہ چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ ایک دیپک ہوا میں دیر تک جل سکتا ہے، مگر ہمیشہ نہیں۔ اگر اردگرد کی فضا مسلسل مخالف ہو، تو چراغ بھی تھک جاتا ہے۔ یہی اصل خطرہ ہے۔
اگر ایسے واقعات میں دیپک راوت تنہا رہ جائیں، اور باقی سب خاموش تماشائی بنے رہیں، تو نفرت کا اطمینان اور بڑھ جاتا ہے۔ پھر وہ صرف دکانوں تک محدود نہیں رہتی، وہ دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتا ہے۔ مظلومیت اپنی جگہ، مگر انصاف کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو پہچاننا اور اس کی قدر کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ نفرت کا مقابلہ صرف شکوے سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتحاد سے ہوتا ہے۔ یہ واقعہ غیر مسلم سماج کے لیے بھی ایک سوال ہے۔ کیا وہ اس روشنی کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، یا اندھیرے کے ساتھ سمجھوتہ کرنا اس کے لیے آسان ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اندھیرے سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے، تو وہ کبھی وفادار نہیں رہتا۔
آخر میں بات پھر وہیں آ کر ٹھہرتی ہے جہاں سے اصل سوال جنم لیتا ہے۔ اتر اکھنڈ کے اس واقعے میں مسئلہ صرف ایک مسلمان دکاندار کا نہیں، نہ ہی معاملہ صرف چند افراد کے رویّے تک محدود ہے۔ اصل مسئلہ وہ فضا ہے جس میں نفرت اتنے اطمینان کے ساتھ سانس لے رہی ہے، اور محبت کو غیر معمولی سمجھا جانے لگا ہے۔ دیپک راوت کا سامنے آنا، اور خود کو “محمد دیپک” کہنا، دراصل ایک فرد کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک پورے سماج کے سامنے رکھا گیا سوال ہے۔ یہ سوال ناموں کا نہیں، نیتوں کا ہے۔ یہ اس تقسیم پر خاموش ضرب ہے جو برسوں سے آہستہ آہستہ مضبوط کی جا رہی ہے۔ محمد اور دیپک دو الگ شناختیں نہیں رہتے، بلکہ اس سچ کی علامت بن جاتے ہیں کہ انسان کو بانٹنے والی لکیر فطری نہیں، بلکہ بنائی گئی ہے۔
دیپک، دیے میں جلنے والی وہ روشنی ہے جو اندھیرے سے اجازت نہیں مانگتی۔ وہ روشنی جو خود جل کر راستہ دکھاتی ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چراغ ہمیشہ تنہا نہیں جل سکتا۔ اگر اردگرد کی فضا مسلسل مخالف ہو، اگر ہوا کا رخ ایک ہی سمت سے آئے، تو روشنیاں بھی تھک جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال فرد سے نکل کر نظام تک پہنچتا ہے۔ نفرت کا سب سے تشویشناک پہلو اس کا اعتماد ہے۔ وہ اعتماد جو چیخ کر نہیں، مسکرا کر ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اعتماد جو یہ یقین دلائے کہ روک ٹوک محض رسمی ہوگی، اور گرفت کا امکان کم سے کم ہے۔ یہ یقین کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ خاموشیوں سے پروان چڑھتا ہے۔ جب سوال نہ پوچھے جائیں، جب رویّوں کو نظرانداز کیا جائے، اور جب بے حسی کو مصلحت کا نام دے دیا جائے۔
یہاں ریاست کا ذکر کسی الزام کی صورت میں نہیں آتا، مگر اس کی غیر موجودگی خود سب سے بڑا سوال بن جاتی ہے۔ کیونکہ ریاست صرف عمارتوں اور عہدوں کا نام نہیں، بلکہ اس احساس کا نام ہے کہ انصاف دیکھا جا رہا ہے، سنا جا رہا ہے، اور محسوس کیا جا رہا ہے۔ جب یہ احساس کمزور پڑ جائے، تو نفرت کو حوصلہ ملتا ہے، اور محبت کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دیپک راوت کا عمل یہ یاد دہانی ہے کہ سماج ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایسے اعمال اب استثنا بن چکے ہیں۔ اگر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا خبر بن جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ معمول کہیں اور منتقل ہو چکا ہے۔ اصل معمول تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ کسی کو نشانہ بنانے کی جرات ہی نہ ہو۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک گہرا پیغام رکھتا ہے۔ مظلومیت کے احساس کے ساتھ ساتھ یہ پہچان بھی ضروری ہے کہ انصاف کی آواز کہاں سے اٹھ رہی ہے۔ نفرت کا مقابلہ صرف شکوے سے نہیں، بلکہ اخلاقی ہم آہنگی سے ہوتا ہے۔ جو ہاتھ انصاف کے لیے بڑھتا ہے، وہ قابلِ قدر ہے، چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو۔ اسی طرح غیر مسلم سماج کے لیے بھی یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ نفرت کو وقتی فائدہ یا دوسروں کا مسئلہ سمجھنا ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نفرت جب آزاد ہو جاتی ہے تو وہ دائرے محدود نہیں رکھتی۔ وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، دیر سے سہی مگر ضرور۔
آخرکار سوال بہت سادہ ہے، مگر اس کا بوجھ بہت بھاری ہے۔ کیا ہم نفرت کے اس اطمینان کو معمول بنانا چاہتے ہیں، یا محبت کی اس روشنی کو تحفظ دینا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دیپک کو تنہا چھوڑ دیں گے، یا اس روشنی کے گرد مزید چراغ جلائیں گے؟ اتر اکھنڈ کے اس واقعے میں ایک طرف نفرت تھی، جو مطمئن تھی، اور دوسری طرف محبت تھی، جو ایک دیپک کی طرح جل رہی تھی۔دیپک راوت نے انتخاب کر لیا۔اب باری معاشرے کی ہے۔
محبت کو سلام، اور اس اطمینان پر گہرا سوال،جو نفرت کو بے لگام بنا دے۔












