نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں ہونے والے دو چھوٹے بم دھماکوں کے وقت اور بی جے پی کی طرف سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوششوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ آپ دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مغربی بنگال کا انتخاب لوٹنے کے بعد بی جے پی نے کہا کہ اب اگلا نمبر پنجاب کا ہے اور اسی دوران پاکستانی دہشت گردوں نے پنجاب میں بم دھماکہ کر دیا۔آخر یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ دو چھوٹے بم دھماکوں سے اتنا خوف نہیں پھیلا جتنا بی جے پی اپنے ٹرولز کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر پاکستان کے دہشت گرد انتخابی موسم میں ہی بھارت میں بم دھماکے کیوں کرتے ہیں، جس سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہوتا ہے؟ کیا بی جے پی کے انتخابات کی تیاری پاکستان کرا رہا ہے یا پاکستانی شدت پسندوں نے پنجاب میں بی جے پی کی مدد کرنے کی ٹھان لی ہے؟ بدھ کے روز آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پنجاب میں دو چھوٹے دھماکے ہوئے ہیں اور کسی کے ہلاک ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی کا پورا نظام اس طرح اس پر ٹوٹ پڑا جیسے گِدھ کسی مردہ جسم پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پہلے سے ایک بیانیہ بنانے کی تیاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں گزشتہ سال لال قلعہ کے سامنے ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا، جسے حکومت نے کم کرکے دکھانے کی کوشش کی اور کہا گیا کہ شاید گاڑی کا ٹائر پھٹا ہے یا سی این جی سلنڈر پھٹا ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھا کر بتائی گئی اور آخرکار معلوم ہوا کہ اس میں 10 سے 15 لوگ مارے گئے تھے۔ اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت نے اس طرح کی سیاست نہیں کی، جیسا کہ آج بی جے پی کے ٹرولز کر رہے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب میں ہونے والے ان چھوٹے دھماکوں پر بی جے پی نے پہلے سے بیانیہ تیار کر رکھا ہے۔ ابھی بی جے پی نے بنگال کا انتخاب لوٹا ہے، اسے جیت کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ اگلا نمبر پنجاب کا ہے۔ بی جے پی کہتی ہے کہ اگلا نمبر پنجاب کا ہے اور پاکستان کہتا ہے کہ چلو پنجاب میں تیاری شروع کرتے ہیں۔ آخر یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کے انتخابات کی تیاری اب پاکستان کرا رہا ہے؟ یا پاکستان کے شدت پسندوں نے پنجاب میں بی جے پی کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ بی جے پی کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔ کیا پاکستان کے دہشت گرد ہمیشہ اسی وقت بھارت پر حملہ کرتے ہیں جب اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے؟ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس کی ٹائمنگ کیا ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کشمیر کے سابق گورنر نے اپنی وفات سے پہلے کئی بار کہا تھا کہ انہوں نے مرکزی حکومت سے سی آر پی ایف کے جوانوں کو ایئر لفٹ کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کی جان کو خطرہ تھا، مگر حکومت نے ایسا نہیں کیا اور کہا کہ ٹرکوں سے ہی جانا ہوگا۔ اس کے بعد 300 کلو آر ڈی ایکس سے بھری گاڑی جوانوں کی گاڑی سے ٹکرا گئی جس میں 42 جوان شہید ہو گئے۔ اتنی بڑی مقدار میں آر ڈی ایکس کیسے آیا اور پاکستان نے یہی وقت کیوں چنا؟ یہ سب سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کا مقصد خوف پھیلانا ہو سکتا ہے، لیکن ان دھماکوں سے اتنا خوف نہیں پھیلا جتنا بی جے پی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں کا آدھا کام تو یہی لوگ کر رہے ہیں۔












