ڈھاکہ۔ ایم این این۔ بنگلہ دیش میں خسرہ کی سنگین وبا کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری طور پر جاری کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ملک کے عوامی صحت کے نظام اور بیماریوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بنگلہ دیش کے معروف اخبار ڈیلی سٹار کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مئیمن سنگھ اور باریسال ڈویژن کے سرکاری ریکارڈ میں کم از کم 34 ایسے مشتبہ خسرہ سے ہونے والے اموات سامنے آئے ہیں جو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مرکزی اعداد و شمار میں شامل نہیں کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان اموات میں زیادہ تر بچے شامل ہیں، جن میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی سطح کے اعداد و شمار مکمل طور پر مرکزی ریکارڈ میں شامل نہ ہوں تو وبا کی شدت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے حکومتی ردعمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔بنگلہ دیش اس وقت گزشتہ کئی برسوں کی بدترین خسرہ وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ 10 مئی کو ڈی جی ایچ ایس نے پہلے سے رپورٹ نہ ہونے والی اموات کو شامل کرنے کے بعد تصدیق شدہ اور مشتبہ خسرہ اموات کی مجموعی تعداد 409 بتائی، جبکہ مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد دسیوں ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق یہ بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ویکسینیشن پروگرام میں خلل، حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی میں تاخیر، اور نگرانی کے نظام کی کمزوریوں کا نتیجہ بھی ہے۔ کئی بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ ملنے کے باعث بیماری تیزی سے پھیلی، خاص طور پر دیہی اور کم وسائل والے علاقوں میں۔حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اموات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی قسم کی انتظامی غفلت یا نظامی ناکامی اس بحران کے پیچھے موجود تھی۔ عوامی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک قابلِ انسداد بیماری ہے اور بڑے پیمانے پر اموات اس بات کا اشارہ ہیں کہ حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو فوری طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شفاف اعداد و شمار، بروقت رپورٹنگ، اور ہنگامی ویکسینیشن مہم ہی وبا پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہیں۔بنگلہ دیش میں سامنے آنے والی یہ صورتحال جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ عوامی صحت کے نظام میں معمولی کمزوریاں بھی بچوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔












