تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ فائر بندی کے نفاذ کے باوجود تل ابیب کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔انہوں نے جنرل اسٹاف کے ایک اجلاس میں کہا کہ ’ہم ایک اہم مرحلہ مکمل کر چکے ہیں، مگر ایران کے خلاف مہم جاری رہے گی‘۔ایال زامیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جو موجودہ مہم کی کامیابیوں پر مبنی ہوگا۔ ہم نے ایرانی جوہری اور میزائل پروگرام کو برسوں کے لیے پیچھے دھکیل دیا ہے اور ہمیں زمینی موجودگی برقرار رکھنی ہوگی‘۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی توجہ اب دوبارہ غزہ کی طرف ہے، جہاں قید کیے گئے اسرائیلیوں کی واپسی اور حماس کی حکومت کے خاتمے کو ہدف بنایا گیا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد منگل کو فائر بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہو ا۔ اس دوران امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے قطر میں واقع امریکی اڈے پر محدود جوابی کارروائی کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان میں پیش پیش تھے نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران پر بمباری سے باز رہے، کیونکہ یہ جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ہوگی۔ٹرمپ نے دونوں ممالک پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اور اسرائیل کو خود معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ فائر بندی اب بھی ’نافذ العمل‘ ہے۔دونوں ملکوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ اگر مخالف فریق کی جانب سے خلاف ورزی ہوئی تو وہ جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔منگل کی صبح اسرائیل نے امریکی تجویز پر جنگ بندی کی منظوری دے دی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ 13 جون سے شروع کی گئی جنگ میں اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں ایرانی جوہری پروگرام کو ختم کرنا سرفہرست تھا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ’صہیونی حکومت‘فائر بندی کی خلاف ورزی نہیں کرتی تو ایران بھی اس کا احترام کرے گا۔ یہ بات انہوں نے ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔بارہ دنوں پر محیط اس شدید کشیدگی میں اسرائیل نے ایرانی فوجی، جوہری اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو بھی قتل کیا۔ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ تہران مسلسل یہ موقف دہراتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ پرامن جوہری پروگرام کا حق رکھتا ہے۔












