نئی دہلی پریس ریلیز،ہمارا سماج:اترا کھنڈ ہلدوانی کے بن بھول پورا میں واقع مدرسے کو مسمار کرنے کے موقع پرپولیس انتظامیہ مقامی عوام کے بیچ جو تشدد ہوا تھا اس میں پولیس انتظامیہ نے عوام پر لاٹھی چارج کرا تھا ۔ عوام نے اپنے بچائو کے لئے پولیس اہلکاروں پر پتھرائو کیا تھا جس کے سبب حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے جس میں کئی افراد کی موت ہوئی اور کافی افراد زخمی ہوئے تھے جو اب تک زیر علاج ہیں۔ ماحول کو قابو کرنے کے لئے وہاں کرفیو بھی لگایا گیا تھا۔ مگر اب حالات بہتر ہیں زمینی حقیقت کا جائزہ لینے کے لئے قومی اقلیتی کمیشن کے وفد نے بن بھولپورا ہلدوانی کا دورہ کیا ۔ بن بھولپورا میں واقع تھانے کے ایس ایچ او ،نیرج بھاکونی نے کمیشن کے وفد کو بتایا حادثے کے وقت تھانے میں کل ۱۱ ؍افراد تھے جن میں تین مجسٹریٹ اور دیگر پولیس اہلکار ، شر پسندو نے دونوں طرف سے تھانے کو گھیرکر آگ زنی ، پتھرائو و توڑ پھوڑ کی گئی جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ وفد نے ملک کے بگیچے کا بھی دورہ کیا موقع پر ضلع مجسٹریٹ تریچا سنگھ، صدر علاقے کے ایس ڈی ایم پریتوش ورما سے اس حادثے کی مکمل جانکاری لی اس کے علاوہ وفد نے مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کر کے تشدد کی وجہ معلوم کی ۔ عوام نے بتایا سرکاری محکمہ نا مکمل جانکاری کے سبب مذہبی املاک کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرتے ہیں ایسے میں پولیس کا رویہ عوام کے لئے ظالمانہ ہوتا ہے ۔ انتظامیہ جب مدرسے کو مسمار کر رہا تھا ، مدرسے میں رکھی ہوئی مقدس کتابیں اور سامان تک نکالنے کی مہلت بھی نہیں دی گئی جس سے عوام میں شدید ناراضگی تھی۔ اس معاملے میں ضلع انتظامیہ نے اپنی خدمات ایمانداری سے انجام نہیں دی جس کے سبب یہ حادثہ پرپا ہوا بڑے پیمانے پربے گناہوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں ، جو پوری طرح سے غیر قانونی ہیں آخر یہ گرفتاریاں کب ختم ہوںگی۔کمیشن کے چیئر مین اقبال سنگھ لالپورا نے کہا یہ جو کچھ بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پولیس عوام کے تحفظ کے لئے ہوتی ہے مقامی عوام امن و امان قائم کرنے میں انتظامیہ کا ساتھ دے تاکہ ماحول سازگار ہو اور انسانی زندگی پٹری پر آئے۔ کمیشن نے عوام کو یقین دہانی کرتے ہوئے کہا حادثے کے قصورواروں پر قانونی کاروائی ہوگی۔ بے گناہ افراد کو اس سلسلے میں گرفتار نہ کیا جائے۔












