دیوبند،سماج نیوز سروس : حکیم الامت مجددِ ملت علامہ اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہٗ العزیز نے جب جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کا سنگِ بنیاد رکھا تو یہ محض اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے عظیم دینی و روحانی مشن کی بنیاد تھی جو نسلوں کو علم نبوت، سنت مصطفیٰ ﷺ اور فکرِ اکابر سے جوڑنے کے لیے قائم کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار ختم بخاری شریف کے موقع پر جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی طاہر حسین ہرسولی نے بخاری شریف کا آخری درس دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ حضرت کی وہ درد بھری دعائیں، جو اخلاص و للّٰہیت سے لبریز تھیں، آج بھی اس ادارے کی فضا میں محسوس کی جاتی۔اسی مشن کو حضرت حکیمُ الامتؒ کے خلیفۂ خاص، مسیحُ الامت حضرت جی مولانا مسیح اللہ خان شیروانی نے اپنی شبانہ روز محنت، روحانی نگرانی اور حکیمانہ بصیرت کے ساتھ پروان چڑھایا۔ مسیحُ الامتؒ نے جامعہ مفتاح العلوم کو صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ تربیت گاہ، اصلاح گاہ اور کردار سازی کا مرکز بنا دیا، جس کے اثرات آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ آج انہی اکابر کی دعاؤں اور قربانیوں کا تسلسل جاری ہے۔ختم بخاری شریف اور سالانہ اجلاسِ عام دستارِ فضیلت کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ عظیم الشان اجتماع ضلع شاملی کی دینی تاریخ کا ایک یادگار، باوقار اور مؤثر اجلاس شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اجلاس جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے مہتمم الحاج قاری ولی اللہ شیروانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، اس موقع پر 11 خاندانوں کو ایک نئی دینی زندگی عطا کی، یعنی 11 جوڑوں کا مسنون نکاح پڑھایا، جو اس اجتماع کا ایک نہایت بابرکت اور ایمان افروز منظر تھا۔اس موقع پر ناظمِ تعلیمات مولانا وصی اللہ عرف آرزومیاں نے جامعہ کی سالانہ تعلیمی و انتظامی رپورٹ پیش کی، جس میں ادارے کی کارکردگی، تعلیمی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی، نیز تمام مہمانانِ گرامی، علماء کرام، اساتذہ، معاونین اور حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔قابلِ فخر امر یہ ہے کہ اس سال جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد نے قوم و ملت کو 22 مفتیانِ کرام، 22 علماء کرام اور 11 حفاظِ قرآن عطا کیے، جو اس ادارے کی تعلیمی کامیابی، اساتذہ کی محنت اور طلبہ کی لگن کا بین ثبوت ہے۔پروگرام کی نظامت جامعہ کے استاذ مولانا ایوب مفتاحی نے انجام دیے۔اجلاس کا اغاز قاری شعیب تلاوتِ قرآنِ مجید اور مولوی ندیم شیر پوری کی نعت رسول ﷺ سے ہوا اور جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے شیخ الحدیثِ اول، استاذ العلماء مولانا عقیل الرحمن کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔آخر میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے ہونہار، باصلاحیت اور فعال نوجوان عالم دین اور استاذ، مفتی عبداللہ تھانوی قاسمی کی علمی و تدریسی خدمات پر شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے، جو خاموشی کے ساتھ ادارے کی علمی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔












