واشنگٹن:(ایجنسی)ایران کی جانب سے فضائی حدود کی بندش (NOTAM) کی مدت ختم ہونے کے بعد، پروازوں کی ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، آج جمعرات کو بعض پروازوں نے تہران کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔اسی دوران امریکی میڈیا نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ "ایران کے لیے حرکت میں آنے والے امریکی بم بار طیاروں کی چوکس حالت معطل کر دی گئی ہے”۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی حکام نے آج علی الصبح ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، کسی وضاحت کے بغیر اپنی فضائی حدود تجارتی طیاروں کے لیے بند کرنے کے حکم میں توسیع کر دی تھی۔ پائلٹوں کو بھیجے گئے ایک سابقہ نوٹس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ یہ بندش مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ اس سے قبل فضائی حدود کو دو گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت کے لیے بند کیا گیا تھا۔ تاہم ایرانی حکومت نے فضائی حدود کی بندش کے فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔
دوسری جانب ایران کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ کچھ نرم دکھائی دیا۔ روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے گذشتہ روز بدھ کی شام بتایا کہ انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ ایرانی مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے”۔امریکی صدر نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ "فی الحال بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے”، حالانکہ تہران اور واشنطن کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمعرات کی سہ پہر ایران کی صورتحال پر بریفنگ دینے کے لیے اجلاس منعقد کرے گی۔ اس کا اعلان سلامتی کونسل کی صومالی صدارت کے ترجمان نے کیا ہے۔ شیڈول نوٹ کے مطابق اس اجلاس کی درخواست امریکہ نے کی تھی۔یاد رہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ عرصے کے دوران ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی بارہا دھمکیاں دی تھیں، جہاں انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین میں دہشت گرد گھس آئے ہیں جو ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مظاہرین اور سکیورٹی اہل کاروں پر فائرنگ کر رہے ہیں” تاکہ امریکہ کو ان کے ملک کے خلاف جنگ میں دھکیلا جا سکے۔












