واشنگٹن(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف اپنی جنگ کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔عراقچی نے مزید کہا کہ نیتن یاہو تکبر کے ساتھ واشنگٹن پر یہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات میں کیا ہونا چاہیے۔ اتوار کے روز "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو خواب دیکھ رہے ہیں کہ وہ ایران کی چالیس سال سے زائد پر محیط پْر امن جوہری کامیابیوں کو مٹا دیں گے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے امکان کے تحت اس کے پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح کر دیا کہ اگر مذاکرات بحال بھی ہوتے ہیں، تو ایران کی فوجی بالخصوص بیلسٹک صلاحیتیں” ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گی۔عراقچی نے ہفتے کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران ہر حال میں اپنی دفاعی خصوصاً فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا، اور یہ صلاحیتیں کسی بھی مذاکرات کا موضوع نہیں بن سکتیں۔یہ بات فرانسیسی خبر رساں ادارے فرانس پریس نے بتائی۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ عراقچی کے مطابق ہم کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس میں یورینیم افزودگی کا حق شامل نہ ہو۔اسی طرح، انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اسنیپ بیک” (Snapback) میکانزم کے تحت ایران پر بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں تو یہ جوہری معاملے میں یورپی کردار کا ’خاتمہ‘ سمجھا جائے گا۔یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی بم باری کی مہم شروع کی تھی، جس میں ایرانی فوجی اور جوہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنس دانوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں کے ساتھ حملے کیے۔یہ جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 22 جون کو امریکا نے اس تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے تہران کے جنوب میں واقع فردو کے زیرزمین یورینیم افزودگی مرکز، اور اصفہان و نطنز (مرکزی ایران) میں دو جوہری تنصیبات پر بم باری کی۔اس کے جواب میں ایران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد 24 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔یہ جنگ ان مذاکرات کی معطلی کا باعث بنی جو اپریل سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنا اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنا تھا۔ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا اختلاف یورینیم افزودگی کے مسئلے پر ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اسے افزودگی کا حق حاصل ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اسے "سرخ لکیر” سمجھتی ہے۔اقوام متحدہ کے ماتحت جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق، ایران وہ واحد غیر جوہری ملک ہے جو یورینیم کو 60 فی صد کی سطح تک افزودہ کر رہا ہے، جب کہ 2015 کے معاہدے میں اس کی حد صرف 3.67 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے 90 فی صد افزودگی درکار ہوتی ہے۔












