قدرت نے انسان کو جو دماغ دیا ہے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زندگی کی اکشر خوشیاں اور مصائب ایک حد تک اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ سوچتا ضرور ہے۔ انسانی دماغ وسیع سوچ کامالک ہے ، انسان جتنا سوچتا جاتا ہے اتنا ہی گہرائی میںچلاجاتا ہے اور بعض دفعہ اتنی گہری سوچ انسان کو پریشان ہونے پر مجبور کردیتی ہے۔ انسان صحیح کام کرنے بھی لگے تو وہ غلط ہو جاتا ہے کیو نکہ اس کے دماغ میں ناکامی کا خوف ہوتا ہے، کامیابی تب ہی ملتی ہے جب خود پر اعتماد ہو اور ارادے مضبوط ہوں، سوچ سے عمل تک کا سفر حقیقت میں آسان نہیں ہوتا۔ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان البراٹ آئن سٹا ئن نے کہا تھا ــ’’اگر آپ کبھی ناکام نہیں ہوتے تو پھر آپ نے کبھی کوئی نیا کام کیا ہے نہیں ‘‘ آئن سٹا ئن کو بچپن میں ناکام تصور کیا جاتا تھا ، اس کے استاد کہتے تھے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔بہر حال آئن سٹائن نے شب بھر میں غلط ثابت نہیں کیا، اس کی کامیابی کا سفر بہت لمبا تھا ، جس کے دوران اس نے خود کو اپنے کام کے لئے مکمل طور پر وقف کردیا، انتہائی استقامت سے کام لیا اور بار بار ناکام ہونے کے لئے تیار رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی ناکامیوں نے ہی اس کے لئے کامیابی کا حصول ممکن بنا، اس کا سبب یہ تھا کہ اُس نے اپنی ساری ناکامیوں سے سبق سیکھے اور اسے خود پر اعتماد تھا کہ وہ کامیاب ہوگا ، یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنی کامیابی تک کے سفر میں آنے والی رکاوٹوں اور ناکامیوں کو اپنے ذہن پر سوار نہیں کیا بلکہ اپنے مقصد کو پکڑے رکھا اور ثابت کیا کہ انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ انسان ہی پر منحصرہے کہ وہ کس حد تک منفی سوچ کو اپنا تاہے اور کس حد تک خود پر اعتماد کرکے چلتا ہے۔ کسی نے کہا کہ ’’ میری نظر میں زندگی میں سب سے مشکل سیکھنا اگر کچھ ہے تو وہ خود پر اعتماد کرناہے ،سیکھنا ہے اور جس نے یہ سیکھ لیا اس نے سب کچھ فتح کر لیا ۔
انسان جب تک کسی پہلو کو ہر طرح سے سوچ نہ لے وہ آگے قدم نہیں بڑھا تا،ایک طرف وہ اپنی منزل کو پانا چاہتا ہے تو دوسری طرف ناکامی کا خوف اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیتا ہے ۔ کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے اپنے اندر خوف کی فضا کو ختم کرنا ہی پڑتا ہے۔ کیو نکہ وہ شخص کامیاب نہیں ہوسکتا جس میں ناکامی کا خوف کامیابی کی چاہت سے زیادہ ہو۔ سب سے ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ اپنے دل و دماغ میں خود کو بلندیوں تک پہچانے کی خواہش کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ نیچے گرنے کا ڈر کبھی پریشان نہ کرے۔ سوچ انسان کی کامیابی اور ناکامی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسان کے خیالات ہی اس کو بتاتے ہیں کیونکہ انسان جیسا سوچتا ہے اسے ویسا ہی نظر آتا ہے، اگر ایک انسان مثبت سوچ اور مضبوط ارادوں کے ساتھ جیتنے کی خواہش اپنے اندر رکھتا ہے تو ہار اس کا مقدر نہیں بنتی۔ انسان اپنی ذہنی خیالات کی وجہہ سے پہچاناجاتا ہے، جب اپنے ارادوں کو مضبوط کر لیا جائے تو کوئی آپ کو ہرا نہیں سکتا کیونکہ انسان تب ہار تا ہے جب وہ ہار جائے اور کوشش کرنا چھوڑ دے۔ نپولین جوایک کامیاب انسان تھا اس کی کامیابی کی کنجی یہی تھی کہ اس کے ارادے مضبوط تھے۔ اس نے کہا کہ ’’میری کامیابی میں میرے مضبوط ارادوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے‘‘ اس لئے اپنے ذہن سے منفی خیالات نکال دیں۔ انسان وہی کچھ ہے جو وہ سوچتا ہے، زندگی کو خوشگوار اوور کامیاب بنانے کے لئے اپنے اندر مثبت سوچنے کی عادت پیدا کریں۔ ایک مشہور رومی فلاسفر نے کہا تھا کہ ’’ ہماری زندگی ہمارے خیالات سے عبارت ہوتی ہے‘‘۔
انسان کی فطرت میں جہاں یہ بات موجود ہے کہ وہ سوچتا ضرور ہے وہی انسان اسی سوچ کی برؤے کارلاتے ہوئے ماضی کوبھی یاد کرتا ہے۔ جہاں ماضی کو یاد کرکے تسکین ملتی ہے وہیں انسان رنجیدہ اور پریشان بھی ہوجاتا ہے اور یہی پریشانی انسان کے مستقبل کے نیک اور مضبوط ارادوں کو بھی ڈولنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اچھی یادداشت ایک نعمت ہے، زندگی میں ترقی کرنے کے لئے باتیں،معلومات اور تجربات ذہن میں محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ماضی میں گزرے نا خوشگوار واقعات کو یاد کرکے پریشان ہونے سے کچھ نہیں ملتا، اس لئے ضروری ہے کہ اگر کامیابی آپ کے قدم چومے تو ماضی کی تلخ حقیقتوں کو یاد کرکے پریشان ہونے کے بجائے اپنے ارادوں اور خیالات کو اچھے اور مثبت پہلو میں استعمال کریں، ماضی کا پوسٹ مارٹم کرنے سے سوائے دکھ اور پریشانی کے کچھ نہیں ملتا، اس کی تلخیاں فراموش کر کے خوب سے خوب تر مستقبل کی جستجوکریں۔
ہار جانا،ناکام ہو جانا کوئی خاص بات نہیں، ضروری یہ ہے کہ پھر سے کھڑا ہو جانا،پچھلی بار ناکامی سے سبق سیکھ کر پھر سے کوشش کرتے رہنا ۔ ہمیشہ جیتتے رہنا بہت اچھا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو مزہ ہار کر اور ناکام ہو کر پھر سے ہمت کرکے کامیاب ہونے میں ہے اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔اس وقت منزل پر پہنچ کر ہونٹ خاموش ہوجاتے ہیں اور صرف آنکھیں بولتی ہیں، رب پر یقین ، انعام سے بھرپور، شکرانے کے آسوؤں کے ساتھ۔اس کا مطلب ہوا ہمت نہ ہار نا آپ کا کام اور اچھے وقت پر کامیاب کروانا رب کا کام ہے ۔منزل پر کامیابی اور رسائی صرف تب ہی ممکن ہے جب انسان ہمت اور حوصلہ ہارے بغیر راہوں کی مشکلات کو پار کرتا ہے۔ مشکلیں ہمیں جینا سکھاتی ہیں اور ناکامیاں،کامیابیوں کا بھر پور جشن منانے کا جذبہ دیتی ہیں۔ اگر ہم ان باتوں پر عمل کریں اور ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے زندگی گزاریں اور اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے ہوئے کوشش کرتے رہیں تو بہت امید ہے کہ ناکامی سے دور رہینگے ۔ ناکامی کا ڈر و خوف ہر وقت دماغ میں بٹھا کر زندگی گزار نا مشکلات کا پیغام دینے کے مترادف ہے۔ اپنی مثبت سوچوں کو عملی جامہ پہنائیں اور خود پر اعتماد حاصل کریں، انسان کی زندگی میں صرف خوشیاں ہی نہیں ہوتیں جو منزہ کی پریشانی کے بعد خوشی ملنے کا ہے اس کی بات ہی الگ ہے، اس طرح جو کامیابی ناکامی کے بعد حاصل ہو اس کا مزہ دگناہوجاتاہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر حال میں اپنے مقصد کو دیکھں کہ آپ کیا چاہتے ہیں پھر اس پر اپنے قدم مضبوط کرلیں اور پھر آپ کامیابی کی راہ پر گا مزن ہونگے اور ایک دن منزل کو بہت قریب اور آخر کار سے پا لینگے۔












