بروانی، 16 جون: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کمل ناتھ نے کہا کہ مقامی تنظیم کی رائے اور سروے رپورٹ کے مطابق آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے ٹکٹ دیئے جائیں گے ۔آج بروانی ضلع کے پاٹی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کمل ناتھ نے آئندہ اسمبلی میں امیدواروں کے انتخاب کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ مقامی تنظیم کی رائے اور سروے رپورٹ کی بنیاد پر ٹکٹ فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایم ایل اے جو جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا اسے سروے رپورٹ دکھا کر صاف انکار کردیا جائے گا۔ 2018 میں پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے اور آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑنے والوں کو ٹکٹ دیئے جانے پرانہوں نے کہا کہ ‘نومبر میں انتخابات ہوئے تھے اور وہ چند ماہ قبل ہی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بنے تھے ، اس لیے ہوسکتا ہے کہ امیدوار کے انتخاب میں غلطی ہوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ‘آج کمل ناتھ 2018 کا ماڈل نہیں بلکہ 2023 کا ماڈل ہے ‘۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ انتخاب کی بنیاد مقامی تنظیم اور سروے رپورٹ ہوگی۔ انہوں نے کہا، ‘ایم ایل اے نہیں جیتتا ہے بلکہ تنظیم اور کارکن جیتتے ہیں’۔جیوترادتیہ سندھیا کے اثر و رسوخ کے بارے میں انہوں نے کہا، ‘گوالیار اور مورینا کے میئر کانگریس سے جیتے ہیں اور عوام کسی کا ووٹ بینک نہیں ہے اور اب کہیں بھی روایتی ووٹ نہیں ہے ۔ اب باپ، بیٹا، چچا اور خالہ الگ الگ ووٹ دیتے ہیں۔مرکز کی طرف سے کامن سول کوڈ کے لیے کرائے جانے والی رائے شماری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی مختلف کیمسٹری ہوتی ہے ، مدھیہ پردیش کا تمل ناڈو یا تمل ناڈو سے دیگر ریاستوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنے ملک کو سمجھنا ہوگا۔ پرینکا گاندھی واڈرا کے مدھیہ پردیش کے دورے کے بعد سیٹوں میں اضافے کے سوال پر انہوں نے کہا، ‘میں شیوراج سنگھ نہیں ہوں کہ دعوے کروں ، مجھے مدھیہ پردیش کے ووٹروں پر بھروسہ ہے ۔’پچھلی بار وچن پتر میں مہمان علماء کے بارے میں اعلان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت وچن پتر کے بارے میں بات کرنا نامناسب ہوگا، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وچن پتر میں کیا کرنا ہے ۔ میرا موثر دور صرف ساڑھے گیارہ ماہ کا تھا۔ شیوراج سنگھ چوہان مہمان یا کنٹریکٹ اساتذہ کے بارے میں اعلان کرتے رہتے ہیں، وہ روز جھوٹ بولتے ہیں، وہ صرف سنگ بنیاد رکھنے والے وزیر ہیں۔کانگریس کی حکومت آنے پر دوبارہ سودے بازی کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا، ‘پچھلی بار بھی اراکین اسمبلی نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں پیسے دیے گئے ہیں، تو میں نے کہا کہ مزے کریں، میں سودے بازی سے بنی حکومت بچانے میں یقین نہیں رکھتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس بھاری اکثریت سے الیکشن جیتے گی، اس لیے کسی بھی قسم کی سودے بازی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔












