علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مختلف شعبہ جات اور اداروں نے یومِ ارض 2026 کے موقع پر کیمپس میں شجرکاری مہمات اور بیداری پروگرامو ں کا انعقاد کیا جس میں ”ہماری طاقت، ہماری زمین“ کے موضوع کی معنویت واضح کی گئی۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے شعبہ کارڈیو تھوریسک سرجری (سی ٹی وی ایس) میں مخلص فاؤنڈیشن انڈیا اور دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن، علی گڑھ کے اشتراک سے شجرکاری مہم چلائی گئی۔ یہ سرگرمی صدر شعبہ پروفیسر محمد اعظم حسین کی رہنمائی میں انجام دی گئی، جس کا مقصد ماحولیاتی ذمہ داری کے جذبہ اور سماجی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر پروفیسر انجم پرویز، پرنسپل، جے این ایم سی؛ پروفیسر فرح اعظمی، پرنسپل، کالج آف نرسنگ؛ پروفیسر عفت اصغر؛ پروفیسر رفیع الدین؛ پروفیسر جمیل؛ پروفیسر فضل الرحمن؛ پروفیسر نسیم احمد؛ پروفیسر شمس تبریز؛ ڈاکٹر قرۃ العین؛ ڈاکٹر کلیم افروغ زیدی؛ ڈاکٹر سید اسد علی؛ ڈاکٹر محمد مجاہد؛ خواجہ حسن جبران؛ ڈاکٹر ارسلان؛ ڈاکٹر صدف؛ ڈاکٹر راشد عمران خان؛ ڈاکٹر انس؛ ڈاکٹر انعم خالد؛ اور انشاء فیروز سمیت دیگر افراد موجود تھے۔ مخلص فاؤنڈیشن انڈیا کے صدر مسٹر عمیر رضوان خان نے ماحولیاتی تحفظ کے تئیں اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر محمد اعظم حسین نے پائیداری کے فروغ میں مقامی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن کے صدر مسٹر محمد عظیم خان نے شجرکاری مہمات کی طویل مدتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اے ایم یو جیوگرافیکل سوسائٹی نے بھی شعبہ جغرافیہ میں شجرکاری مہم اور ایک علمی نشست کے ساتھ یومِ ارض منایا۔ شجرکاری مہم کی قیادت مہمانِ خصوصی پروفیسر انور شہزاد نے کی، جبکہ چیئرپرسن پروفیسر شہاب فضل، اور کوآرڈینیٹرز ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی اور ڈاکٹر صالحہ جمال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ علمی نشست میں ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ماحولیاتی مسائل کے تدارک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر انور شہزاد نے اپنے کلیدی خطاب میں یومِ ارض کی تاریخ بیان کرتے ہوئے صنعتی ترقی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی چیلنجوں، کاربن جذب کرنے میں درختوں کے کردار، اور کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے میں انفرادی ذمہ داری پر زور دیا۔ صدر شعبہ پروفیسر شہاب فضل نے وسائل کے پائیدار استعمال اور کرہئ ارض کے تحفظ کی اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر صالحہ جمال نے گلیشیئرز کے پگھلنے اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی حدت کے خلاف اجتماعی اقدامات کی اپیل کی۔ طلبہ میں جتن کمار، جینس جیسیکا ڈوئل، مریم رضا احمد اور بشریٰ نسرین نے بھی ماحولیاتی مسائل، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات سے جڑے معاشی چیلنجوں اور موافقتی حکمت عملیوں پر اظہارِ خیال کیا۔ نشست کی نظامت آمنہ صدیقی اور عرفات خلیق چودھری نے کی۔ پروگرام میں طلبہ، اساتذہ اور عملے کی بھرپور شرکت رہی۔ اُدھر عبداللہ اسکول میں یومِ ارض کے موقع پر صبح کی خصوصی اسمبلی منعقد کی گئی، جس میں بچوں نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار طرزِ زندگی پر تقریریں کیں۔ ماحولیاتی موضوعات پر ایک پوسٹر سازی مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔ اسکول سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات دوست عادات اپنانے اور ماحولیات کے تحفظ میں انفرادی ذمہ داری ادا کرنے کی تلقین کی۔ اس موقع پر اسکول کیمپس میں شجرکاری بھی ہوئی، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔












