واشنگٹن(ہ س)۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو بتایا کہ امریکہ وبائی ردِ عمل کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی ادار? صحت کی گذشتہ سال کی اصلاحات کو مسترد کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ایسے اقدامات ملک کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ٹرمپ نے ملک کو فوری طور پر اقوامِ متحدہ کے ادارہ صحت سے الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔سکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے سکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر جو ویکسین کے طویل عرصے سے ناقد ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی ادارے کی جانب سے لائی گئی تبدیلیوں سے "صحت کی پالیسی بنانے کے ہمارے قومی خودمختار حق میں غیر ضروری مداخلت کا خدشہ ہے۔دونوں نے کہا، ہم اپنے تمام اقدامات میں امریکیوں کو اولیت دیں گے اور ہم ایسی بین الاقوامی پالیسیاں برداشت نہیں کریں گے جن سے امریکیوں کے اظہار آزادی، رازداری یا ذاتی آزادیوں کی خلاف ورزی ہو۔روبیو اور کینیڈی نے امریکہ کو بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترمیم کے ایک سلسلے سے باضابطہ طور پر الگ کر لیا جو جنیوا میں 2023 کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں منظور کی گئی تھیں۔ یہ وہ قانونی ترامیم ہیں جو بیماری سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی رہنمائی کرتی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "ہمیں ترامیم کو مسترد کرنے کے امریکی فیصلے پر افسوس ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصلاحات "رکن ممالک کی خودمختاری کے بارے میں واضح ہیں” اور ڈبلیو ایچ او "لاک ڈاؤن یا اسی طرح کے اقدامات کا حکم نہیں دے سکتا۔تبدیلیوں میں "یکجہتی اور مساوات کا ایک بیان کردہ عزم” شامل تھا اور مستقبل کی ہنگامی صورتِ حال میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا۔ممالک کے پاس اصلاحات پر باضابطہ اعتراضات درج کرانے کے لیے ہفتہ کے دن تک کا وقت ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے قدامت پسند اور ویکسین کے خلاف شکوک رکھنے والے کارکنان نے تبدیلیوں کے خلاف عوامی مہمات کی قیادت کی ہے حالانکہ ان ممالک کی حکومتوں نے ان کی حمایت کی۔یہ ترامیم اس وقت منظور کی گئیں جب ممالک ایک زیادہ پْرعزم عالمی وبائی معاہدے پر متفق ہونے میں ناکام رہے۔ زیادہ تر رکن ممالک نے مئی 2025 میں اس معاہدے کے ایک ورڑن کو حتمی شکل دے دی تھی البتہ امریکہ نے اس میں حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ اس وقت ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری کے عمل میں تھا۔سابق صدر جو بائیڈن کے تحت امریکہ نے مئی-جون 2024 کے دوران مذاکرات میں حصہ لیا لیکن حتمی اتفاق رائے کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ ویکسین کی تیاری سے متعلق امریکہ کے دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ پر خدشات کو اس کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔روبیو کے پیشرو انٹونی بلنکن نے ڈبلیو ایچ او کی اصلاحات کو پیش رفت کے طور پر خوش آمدید کہا تھا۔ لیکن روبیو اور کینیڈی نے کہا، یہ تبدیلیاں "وبا کے دوران عالمی ادارہ صحت کے سیاسی اثر و رسوخ اور سنسرشپ کے حساسیت کو مناسب طریقے سے حل کرنے میں ناکام ہیں – خاص طور پر چین سے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ گیبریئس نے کہا، تنظیم "غیر جانبدار ہے اور لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ کام کرتی ہے۔












