واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور تہران ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران انتظامیہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے شدید بے چین ہے اور اس سلسلے میں "مناسب لوگوں” کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ آج صبح ایران کے حوالے سے مناسب لوگوں کی طرف سےرابطہ ہوا، ایران نے ہم سے بات چیت کی ہے اور شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کئی امور پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم ایرانی حکام ایٹمی ہتھیاروں کی دستبرداری پر تاحال راضی نہیں ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی ہے اور آبنائے ہرمز پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، "ہم کسی بھی ملک کو بلیک میلنگ یا بھتہ خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔”
عالمی معیشت پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کے پاس اب سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بحری جہاز تیل کے حصول کے لیے اب امریکہ کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کو بہترین قرار دیتے ہوئے نیویارک ٹائمز اور دیگر میڈیا اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایران کی مبینہ کامیابی کی خبروں کو "فیک نیوز” قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر نے وہاں انتہائی شاندار کام کیا ہے۔












