یروشلم (ہ س)۔ غزہ میں یرغمال بنائے گئے اور حال ہی میں رہا کیے گئے 65 اسرائیلی شہریوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں تاحال قید افراد کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور اس اہم موقع کو ضائع نہ کریں۔ یہ اپیل ’ہوسٹیج اینڈ مسنگ فیملیز فورم‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک خط کے ذریعے کی گئی ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران اغوا کیے گئے افراد اور ان کے اہل خانہ کی نمائندگی کرتا ہے۔خط میں تحریر کیا گیا ہے، ’’ہم،جو ریاست کی لاپرواہی کی وجہ سے 7 اکتوبر کو اغوا کئے گئے تھے، اب جب رہا ہوچکے ہیں، ایڈن الیگزینڈر کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ الیگزینڈر ایک اسرائیلی نڑاد امریکی فوجی ہے جسے امریکہ نے حماس کے ساتھ آزادانہ مذاکرات کے ذریعے رہا کرایا۔سابق یرغمالیوں نے یہ بھی کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کے پاس اب مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا حقیقی موقع ہے۔ ہم آپ سب سے اپیل کرتے ہیں کہ جب تک کوئی جامع معاہدہ نہیں ہو جاتا اس کوشش کو ترک نہ کریں۔‘‘سابق یرغمالیوں کی اس پرجوش اپیل کو اس تنازعہ کے درمیان امید کی ایک نئی کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے بامعنی اقدامات کے دروازے کھول سکتا ہے۔حالانکہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے مارچ میں مختصر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دی تھی جس سے امن کی کوششوں کو دھچکا لگا تھا۔ لیکن امریکہ کی حالیہ ریلیز اور آزادانہ کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی راستے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔












