نئی دہلی ، ایجنسیاں:ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان 40 منٹ تک فون پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس سال یہ تیسری فون کال تھی۔ اس سے قبل پی ایم مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں فون پر بات چیت کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس بات چیت کے بعد پی ایم مودی نے ٹویٹر پر لکھا، "مجھے صدر ٹرمپ کا فون آیا اور ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارت کشیدگی میں کمی اور جلد از جلد امن کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور قابل رسائی رکھنا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ ہم امن اور استحکام کی کوششوں کے سلسلے میں رابطے میں رہنے پر متفق ہوئے”۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات کی ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تقریباً 40 منٹ تک فون پر بات کی۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ہوئے تاہم اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں کوئی حل نہیں نکل سکا۔ اس امریکہ-ایران ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اب پی ایم مودی سے بات کی ہے۔ پی ایم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات ابھی دستیاب نہیں ہیں، لیکن 40 منٹ کی فون کال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تقریباً 40 منٹ تک فون پر بات کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سمیت کئی اہم امور کا احاطہ کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے یہ اطلاع دی۔ جنگ بندی اور امریکا ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی بات چیت ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بتایا کہ فون پر بات چیت کے دوران ایران جنگ اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ سے کہا ’’ہندوستان کے لوگ آپ سے پیار کرتے ہیں‘‘۔ اس نے چند منٹ پہلے ہی فون بند کر دیا تھا۔ صدر وزیر اعظم کو باقاعدہ اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جاری تمام اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔












