واشنگٹن (ہ س)۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے پیر کے روز کہا ہے کہ صدر ٹرمپ غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے آپریشن شروع کرنے اور اس کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے فیصلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس تنازع اور دوبارہ جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری صرف حماس پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر نے ان نتائج کو واضح کیا ہے جن کا حماس کو سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ قیدیوں کو اپنے پاس رکھنا جاری رکھے گا۔ یاد رہے قیدیوں میں امریکی ایڈن الیگزینڈر اور چار امریکیوں کی لاشیں شامل ہیں۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کی شام غزہ میں کارروائیوں کو وسعت دینے کے منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں اس علاقے پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کے ایک ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی منظور شدہ منصوبہ بندی میں غزہ کی پٹی پر مکمل قبضہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق یہ بھی اعلان کیا کہ غزہ میں آپریشن کو وسعت دینے سے اس علاقے پر مکمل قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ نیتن یاہو اور متعدد وزرا پر مشتمل سیکیورٹی کونسل نے حماس کو کمزور کرنے، شکست دینے اور غزہ کی پٹی میں قیدیوں کو بازیاب کرانے کے مقصد سے نئے منصوبے کی متفقہ منظوری دی ہے۔واضح رہے حماس نے 17 اپریل کو ایک اسرائیلی تجویز کو مسترد کر دیا تھا جس میں 10 زندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 45 دن کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے برعکس حماس نے ایک جامع معاہدے کا مطالبہ کیا جس میں جنگ کا خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء شامل ہو اور اس کے بدلے میں تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔اسرائیل نے 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 18 مارچ کو غزہ پر اپنی کارروائی دوبارہ شروع کردی تھی۔ اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق 58 قیدی اب بھی غزہ میں قید ہیں جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔












