واشنگٹن(ہ س)۔دی لانسیٹ نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی انسانی امداد کے لیے امریکی فنڈنگ میں کٹوتی کے اقدام سے سنہ 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اضافی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ قبل از وقت موت کا خطرہ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مارچ میں کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے 80 فیصد سے زیادہ پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔لانسیٹ کی رپورٹ کے شریک مصنف ڈیوڈ رسیلا نے ایک بیان میں کہا کہ ’بہت سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اثرات کسی بھی عالمی وبا کی طرح ہو سکتے ہیں یعنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا امکان ہے۔‘بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ سے وابستہ محقق رسیلا کا کہنا ہے کہ ’فنڈز میں کٹوتی سے خطرے سے دوچار آبادیوں میں صحت کے شعبے میں دو دہائیوں سے جاری پیش رفت کو اچانک روکنے کا خطرہ ہے۔‘133 ممالک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہوئے محققین کا کہنا ہے کہ یو ایس ایڈ کی مالی اعانت کی وجہ سے سنہ 2001 سے سنہ 2021 کے درمیان ترقی پذیر ممالک میں تقریباً نو کروڑ افراد کو موت میں منہ میں جانے سے بچایا گیا۔تخمینے کے مطابق یہ کٹوتی سنہ 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس تعداد میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 45 لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے، یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر سال تقریباً سات لاکھ بچوں کی موت ہو سکتی ہے۔












