واشنگٹن (ہ س)۔فلسطینی اراضی میں ایک نئی پیش رفت میں Gaza Humanitarian Foundation کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیک وْڈ مستعفی نے اپنے منصب سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ فاؤنڈیشن ایک متنازع تنظیم ہے اور وہ غزہ کی پٹی میں امداد پہنچانے کی تیاری کر رہی تھی۔اتوار کے روز تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں جیک وڈ نے کہا کہ انھوں نے دو ماہ قبل اس عہدے کی ذمہ داری اس احساس کے تحت سنبھالی کہ وہ غزہ میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں … تاہم اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تنظیم کی منصوبہ بندی کو "انسانی اصولوں، غیر جانب داری، دیانت اور خود مختاری” کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ممکن نہیں رہا، اور یہ وہ اصول ہیں جن سے وہ کسی صورت دست بردار نہیں ہو سکتے۔جیک وڈ نے بیان میں مزید کہا کہ "میں اسرائیل پر زور دیتا ہوں کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع سے غزہ تک امداد کی فراہمی کے دائرے کو بہت وسیع کرے، اور میں تمام متعلقہ فریقوں پر بھی زور دیتا ہوں کہ وہ امداد پہنچانے کے نئے اور مؤثر طریقے تلاش کرنے کا عمل بغیر کسی تاخیر، رکاوٹ یا امتیاز کے جاری رکھیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ "میں اب بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ طویل المدت اور پائے دار حل صرف اسی صورت ممکن ہے کہ حماس تمام قیدیوں کو رہا کرے، دشمنی کا خاتمہ ہو، اور خطے کی تمام اقوام کے لیے امن، سلامتی اور عزت کا راستہ نکالا جائے۔ادھر اسرائیلی حکومت کے زیرانتظام "مقبوضہ علاقوں میں حکومتی امور کی ہم آہنگی کے یونٹ” نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ 107 امدادی ٹرک غزہ کی پٹی میں کرم ابو سالم گزرگاہ کے راستے داخل ہوئے، جن میں آٹا اور دیگر غذائی اشیاء شامل تھیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے تین ماہ کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ محصور غزہ میں امداد داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔مارچ کے آغاز سے اسرائیل نے امدادی سامان کی کسی بھی ترسیل کی اجازت نہیں دی تھی، اس دعوے کے تحت کہ حماس ان امدادی اشیاء کو دوبارہ فروخت کرکے اپنے جنگجوؤں اور اسلحے کی مالی معاونت کرتی ہے۔اقوام متحدہ اور امدادی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ کی ساحلی پٹی شدید قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جو مقدار ابھی تک غزہ پہنچی ہے، وہ وہاں کی عوامی مصیبت میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں لا سکی۔












