واشنگٹن(ہ س)۔ایک امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امریکہ میں موجود ہزاروں افغان شہریوں کے لیے عارضی حفاظتی حیثیت (Temporary Protected Status – TPS) ختم کرنے سے روک دیا ہے۔گذشتہ روز دستاویزات کے ذریعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عدالت نے مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم کاسا” کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ افغان شہریوں کی عارضی حفاظتی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر پابندی 21 جولائی تک برقرار رہے گی۔یاد رہے کہ تنظیم "کاسا” نے امریکی وزارتِ داخلہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغان اور کیمرونی شہریوں کے لیے TPS ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔تنظیم نے پیر کے روز ایک فوری درخواست جمع کرائی تھی تاکہ افغان شہریوں کے تحفظ کے فیصلے کو ملتوی کیا جا سکے، کیونکہ اسے اسی روز ختم کیا جانا تھا۔ عدالت کی دستاویزات کے مطابق کیمرونی شہریوں کے لیے TPS کی مدت 4 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔اپریل میں جب ٹرمپ انتظامیہ نے ہزاروں افغان اور کیمرونی شہریوں کے لیے ملک بدری سے بچاؤ کی عارضی حیثیت ختم کی تھی، تو امریکی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ افغانستان اور کیمرون کی صورتِ حال اب اس تحفظ کے اہل نہیں رہی۔یاد رہے کہ امریکا نے 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان سے 82 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو نکالا تھا۔












