واشنگٹن(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شرقِ اوسط کے نمائندہ سٹیو وٹکوف نے منگل کو کہا، امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت "امید افزا” تھی اور واشنگٹن طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پرامید ہے۔ہم پہلے ہی ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں نہ صرف براہِ راست بلکہ نمائندوں کے ذریعے بھی۔ مجھے لگتا ہے کہ گفتگو امید افزا ہے۔ امید ہے کہ ہم ایک طویل مدتی امن معاہدہ کر سکتے ہیں جو ایران کو دوبارہ بحال کرے،” وٹکوف نے فاکس نیوز کے دی انگراہم اینگل” شو میں ایک انٹرویو میں کہا۔انہوں نے مزید کہا،اب یہ ہمارے لیے ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ بیٹھیں اور ایک جامع امن معاہدے پر پہنچیں اور مجھے بہت زیادہ یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔اپریل سے ایران اور امریکہ نے بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک نیا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ تہران نے کہا ہے کہ اس کا پروگرام پْرامن ہے اور واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ٹرمپ نے پیر کو امریکی اتحادی اسرائیل اور اس کے علاقائی حریف ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ان کی فضائی جنگ کو ختم کرنا تھا جو 13 جون کو اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔ اس تنازعہ سے ایک ایسے خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی جو اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔اسرائیل شرقِ اوسط کا واحد ملک ہے جس کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ خیال ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور وہ کہتا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی جنگ کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا فریق ہے جبکہ اسرائیل نہیں ہے۔امریکہ نے ہفتے کے آخر میں ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کیا اور ایران نے جوابی کارروائی میں پیر کے روز قطر میں امریکی فضائی مرکز کو نشانہ بنایا۔ پھر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اسرائیل-ایران جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔












