• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, اپریل 29, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

حج کیوں ضروری ہے؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 29, 2026
0 0
A A
حج کیوں ضروری ہے؟
Share on FacebookShare on Twitter
جو لوگ اللہ رسول کو دل سے مانتے ہیں ان کیلئے یہی جواب کافی ہے کہ اللہ کا حکم ہے رسولؐ کا فرمان ہے۔اس لئے حج کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم: وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاًo وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ(سورہ آل عمران، ۹۷)
اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تواللہ تمام دنیاوالوں سے بے نیاز ہے۔
فرمان رسولؐ:’’جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی و نصرانی ہوکر مرنایکساں ہے۔‘‘(جامع ترمذی)
’’جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو اور اسی حالت میں اسے موت آجائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔‘‘
اور اسی کی تفسیر حضرت عمرؓ نے کی جب کہا کہ ’’جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جز یہ لگادوں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول و خلیفۂ رسول کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجئے اور نہ چاہے تو ٹال دیجئے؛ بلکہ یہ ایک ایسا فرض ہے، کہ ہر اس مسلمان کو جو کعبے تک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو، اور ہاتھ پاؤں سے معذور نہ ہو، عمر میں ایک مرتبہ اسے لازماً ادا کرنا چاہئے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنے کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی ذمہ داریاں ہوں۔ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کر کرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں، ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمہ ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں۔ کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزرجاتے ہیں جہاں سے مکہ صرف چندگھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دل میں نہیں گزرتا، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اور قرآن سے جاہل ہے جو انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ ان کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اٹھتا ہے تو اٹھا کرے، اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہر حال ان کے دل میں نہیں ہے۔ (خطبات: فریضۂ حج)
تجدید عہد:پیروی اسلام کا عہد کرلینے کے بعد ہم خدا کے ہاتھ بک جاتے ہیں، اور اسی عہد کی تجدید کیلئے ہم اس کے آستانہ پر حاضر ہوتے ہیں اور حجر اسود کو ہاتھ لگاکر اس عہد کو از سر نو تازہ کرتے ہیں۔ یہ ابراہیمؑ و اسمٰعیل علیہما السلام کے عہد کی ہماری طرف سے توثیق اور اللہ کی راہ میں قربان ہونے کیلئے ہماری طرف سے اقرار ہوتا ہے۔
پھر حج کا اجتماع میدان حشر میں ہمارے کھڑے ہونے کی بھی تصویرہے۔ اس پہلو سے نماز، حج اور قربانی، ان تینوں کو معاد سے نہایت قریبی نسبت ہے۔
صبر:اللہ کا بندہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ کے عہد پر قائم رہنا، اس پر پورا بھروسہ کرنا، اس کی راہ میں مصائب جھیلنا اور انجام کار کی کامیابی کا منتظر رہنا کتنی کٹھن راہ ہے اور اس میں ہر قدم پر صبر و ثبات کی کتنی ضرورت پیش آتی ہے۔
یہی حال قربانی کا بھی ہے۔ یہ اس عظیم الشان صبر کی تعلیم  پر مبنی ہے جس کا نمونہ ابراہیم خلیل ؑ نے پیش کیا۔ بڑھاپے تک خدا نے ان کو کوئی اولاد نہیں بخشی، لیکن جب بخشی اور ایسی اولاد بخشی جس کے حسن باطن اور حسن ظاہر نے ان کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ تو اسی اولاد کو خدا نے اپنی راہ میں قربان کرنے کا حکم دے دیا۔ غور کیجئے، کتنا کٹھن امتحان تھا، لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے پائے ثبات کو ذرا بھی لغزش نہیں ہوئی، بلکہ وہ خدا کے شکر گزار ہوئے کہ اس نے ان سے وہ چیز مانگی جو ان کو تمام دنیا میں سب سے زیادہ عزیز و محبوب تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز پر ہمارا صبر، اسی طرح کا صبر ہے جس طرح کا صبر ہم مصائب کو برداشت کرتے وقت کرتے ہیں۔ نماز اور خدا کی جانی و مالی آزمائشوں کے وقت صبر میں جوتعلق ہے اس کو اس آیت ذیل بے نقاب کررہی ہے۔
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، بے شک اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں، ان کو مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم محسوس نہیں کرتے۔ ہم تم کو کسی قدر خوف، قحط اور مال ، اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے۔ اور ثابت قدموں کو بشارت دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اسی کے طرف لوٹنے والے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں اور رحمت ہے اور وہی لوگ راہ یاب ہیں۔ بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ پس جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، کچھ مضائقہ نہیں کہ ان کا طواف کرے اور جس نے اپنی خوشی سے نیکی کی تو اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورہ البقرہ: ۱۵۳-۱۵۸)
اس آیت میں مروہ کا بھی تذکرہ ہے اور اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ یہی وہ جگہ جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کی قربانی کی تھی۔ غور کیجئے اس آیت میں نماز، صبر، جہاد، مصائب اور مقام قربانی کا تذکرہ ایک ساتھ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس وجہ سے کہ ایک جامع حقیقت نے ان سب کا رشتہ ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔
ان دونوں میں اس امر کا اقرار و اعتراف ہے کہ ہر چیز خدا ہی کی ملکیت ہے اور تمام نعمتیں اسی کی بخشی ہوئی ہیں۔ نماز میں تو یہ حقیقت بالکل ظاہر ہی ہے کہ اس کی بنیاد ہی شکر اور اقرار ربوبیت پر ہے۔ غور کرنے سے یہی بات قربانی میں بھی معلوم ہوتی ہے، یہ بھی زبان حال سے گویا اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ ہم قربانی کرکے گویا اقرار کرتے ہیں کہ ہر چیز خدا ہی کی ملکیت ہے، تمام نعمتیں اسی کی بخشی ہوئی ہیں۔ ہماری جانیں اور ہمارے مال سب اللہ کے خزانۂ جود و فیض ہی سے ہم کو نصیب ہوئے، اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو خدا ہی کے حوالہ کریں اور اسی کی اطاعت و بندگی کی راہ میں ان کو استعمال کریں۔ یہ ہم کو اسی لئے بخشے گئے ہیں کہ ہم اس کے فضل و احسان کا شکر ادا کریں اور جہاں اس کی مرضی ہو وہاں ان کو قربان کردیں، اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے، اس وجہ سے ہم صرف اسی کی بندگی کرتے ہیں اور اسی کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور جو کچھ اس کا بخشا ہوا ہے اسی کے دربار میں پیش کرتے ہیں۔ وہی پیدا کرنے والا اور وہی بخشنے والا ہے۔ اسی نے ہماری زبانوں پر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کا اقرار جاری کیا؛ یعنی ہم اور ہماری تمام ملکیت خدا ہی کیلئے ہیں۔ حکومت اور احسان صرف اسی کی صفت ہے، ہمارے لئے صرف اطاعت اور شکر گزاری ہے۔ جس طرح ملکیت صرف مالک کی طرف لوٹتی ہے، اسی طرح ہم کو بالآخر خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
قربانی اور حج:قربانی تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے یہ بالکل واضح ہے۔ قربانی کرنے والا اپنی قربانی ایسی جگہ لاتا ہے، جو اس کے خیال میں خدا کی طرف سے اس عبادت کیلئے مخصوص اور مقدس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے قربانی کیلئے ایک مخصوص و متعین جگہ قرار پائی۔ یہود کے یہاں بیت المقدس کے سوا کسی دوسری جگہ قربانی جائز نہیں۔ لیکن مسلمانوں کیلئے جس طرح تمام روئے زمین کو مسجد ہونے کا شرف حاصل ہوا، اسی طرح قربانی بھی ان کیلئے ہر جگہ جائز ہوئی۔ تاہم جس طرح مسجد کی نماز کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح قربان گاہ پر قربانی کرنا بھی افضل ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ متعین فرمائی تھی۔ یہی جگہ ہمارے لئے بھی مخصوص ہوئی۔ چنانچہ جس طرح ہم ان کی تعمیر کی ہوئی مسجد کیلئے سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے قربانی کے جانوروں کو بھی ان کی قربان گاہ پر لے جاتے ہیں۔ ان باتوں کا مقصد ہمارے دل میں اعتقاد راسخ کرنا ہے کہ ہماری حیثیت خدا کے غلاموں اور چاکروں کی ہے جو لبیک کہتے ہوئے آقا کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنی بندگی کے اقرار کیلئے اپنی قربانیاں اس کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔ پس جس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر صلوٰۃ کو صلوٰۃ کہا گیا ہے، اسی حقیقت کی رعایت سے قربانی کیلئے قربانی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: استشرفواضحایاکم فانھا علی الصراط مطایاکم عازم حج کو سب سے پہلے نیت خالص کرنا ضروری ہے۔
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں گھس کر خواتین پر حملہ اور چھیڑ چھاڑ

    گھر میں گھس کر خواتین پر حملہ اور چھیڑ چھاڑ

    اپریل 29, 2026
    بنگال میںآخری مرحلہ کی ووٹنگ آج

    بنگال میںآخری مرحلہ کی ووٹنگ آج

    اپریل 29, 2026
    معروف تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو کردیا گیاسیل

    معروف تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو کردیا گیاسیل

    اپریل 29, 2026
    عالمی تیل پیدا کرنے والے گروپ کے لیے بڑا دھچکا

    عالمی تیل پیدا کرنے والے گروپ کے لیے بڑا دھچکا

    اپریل 29, 2026
    گھر میں گھس کر خواتین پر حملہ اور چھیڑ چھاڑ

    گھر میں گھس کر خواتین پر حملہ اور چھیڑ چھاڑ

    اپریل 29, 2026
    بنگال میںآخری مرحلہ کی ووٹنگ آج

    بنگال میںآخری مرحلہ کی ووٹنگ آج

    اپریل 29, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist