نئی دہلی (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے جمعرات کو یہاں این ای ای ٹی ۔ یو جی امتحان میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا جس میں کئی نو منتخب ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ یوتھ کانگریس کے قومی ترجمان ورون پانڈے نے کہا کہ تنظیم کے صدر بی۔ وی سرینواس کی قیادت میں جمع ہوئے کارکنان جب جنتر منتر سے گھیراؤ کے لیے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے لگے تو دہلی پولس نے انہیں بیریکیڈ لگا کر روک دیا لیکن جب پرجوش کارکنوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران کئی نوجوان زخمی ہوگئے ، پولیس لاٹھی چارج کرتی رہی جس سے کئی نوجوانوں کو شدید چوٹیں آئیں۔ پولیس نے بعد میں کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران یوتھ کانگریس کے صدر بی وی سرینواس نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا "این ای ای ٹی ۔ یو جی امتحان میں دھاندلی نے 24 لاکھ نوجوان طلباء کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے ، جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے ۔” نیٹ امتحان میں گھوٹالہ نہ صرف 24 لاکھ طلباء کے ساتھ دھوکہ ہے بلکہ یہ ملک کے طبی نظام اور ملک کے مستقبل کے ساتھ بھی دھوکہ ہے ۔ آج ملک میں کوئی ایسا امتحان نہیں جس میں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔ مسٹر مودی امتحانات پر بات کرتے ہیں لیکن انتخابات کے دوران پیپر لیک اور دھاندلی پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ مسٹر سرینواس نے کہا "یہ حیرت کی بات ہے کہ حکومت پیپر لیک ہونے اور نیٹ کے امتحان میں رزلٹ کی دھاندلی پر خاموش ہے ۔ این ٹی اے اس معاملے میں شک کے دائرے میں ہے کیونکہ پیپر لیک ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ پھر امتحان میں بچوں نے جتنے زیادہ نمبر حاصل کئے وہ ممکن نہیں ہے ۔ یہی نہیں نیٹ کا نتیجہ بھی عجلت میں اور وقت سے پہلے جاری کر دیا گیا۔ یہ تمام مسائل این ٹی اے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ملک کی نوجوان نسل کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہیں جلد از جلد این ٹی اے کو برخاست کر کے خود مستعفی ہو جانا چاہئے ۔












